جہلم میں مضر صحت کھانوں کی فروخت عروج پر، شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

جہلم شہر اور ضلع بھر کے ہوٹلوں میں مضر صحت اور ناقص کھانوں کی فروخت کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث شہری پیٹ کی بیماریوں سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اندرون شہر، جی ٹی روڈ اور ضلع کے دیگر علاقوں میں قائم متعدد ہوٹلوں میں غیر معیاری اور مضرِ صحت کھانے سرِ عام فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ہوٹلوں میں کھانا تیار کرنے کے لیے غیر معیاری مصالحے، ناقص گھی اور تیل استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ صفائی کے بنیادی اصولوں کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی ہوٹلوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث گرد و غبار میں لپٹی اشیاء سے کھانے تیار کیے جاتے ہیں، جو حفظانِ صحت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہوٹلوں میں کام کرنے والے اکثر کاریگروں اور ویٹرز کے ناخنوں میں میل جمی ہوتی ہے، داڑھیاں بڑھی ہوئی، گندے کپڑے زیبِ تن کیے ہوتے ہیں، جبکہ کسی کے پاس بھی میڈیکل یا فٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہوتا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس غفلت کے باعث عوام کی صحت شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہے اور اسپتالوں میں پیٹ، معدے اور دیگر بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عوامی حلقوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور ایس او پیز پر پورا نہ اترنے والے ہوٹل مالکان کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائیاں کی جائیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہوٹلوں اور فوڈ پوائنٹس کی باقاعدہ اور مؤثر چیکنگ یقینی بنائی جائے، تاکہ عوام کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری اور محفوظ کھانا دستیاب ہو سکے اور شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button