جہلم میں ہیلمٹ کی قلت، شہری مہنگے داموں ہیلمٹ خریدنے پر مجبور

جہلم میں ہیلمٹ کی اچانک قلت نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف جاری سخت کارروائیوں اور چالان مہم کے بعد موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمٹ خریدنے کا رجحان غیر معمولی طور پر بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ہیلمٹ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی دکانداروں نے ہیلمٹ کو بلیک میں مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔

شہریوں کے مطابق حال ہی میں جو ہیلمٹ پہلے 600 روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت یکدم بڑھا کر ایک ہزار روپے کر دی گئی جبکہ کچھ ہیلمٹ کو 2 ہزار روپے تک بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عام شہریوں کے لیے مالی بوجھ پیدا کر رہی ہے بلکہ قانون کی پاسداری اور جانوں کی حفاظت کے مقصد کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

ٹریفک پولیس کی کارروائیوں کے باعث شہری قانونی طور پر ہیلمٹ پہننے پر مجبور ہیں، لیکن مارکیٹ میں مصنوعی قلت اور مہنگے داموں فروخت ہونے کی وجہ سے شہریوں کو قانونی تقاضوں کی پیروی کے لیے اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو نقصان کے لیے مصنوعی قلت پیدا کر کے ہیلمٹ کو غیر مناسب نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں، تاکہ ہر شہری مناسب قیمت پر ہیلمٹ خرید سکے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کر کے اپنی جان محفوظ رکھ سکے۔

واضح رہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف جہلم بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی سامنے آیا ہے، جہاں ہیلمٹ کو منافع کمانے کا نیا میدان سمجھ کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ مارکیٹ میں ہیلمٹ کی معقول فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور عوامی تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کا حقیقی مقصد پورا ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button