سکولوں میں ہفتہ وار دو چھٹیوں کا انجام نویں جماعت کے ناقص نتیجہ کی صورت میں سامنے آگیا

جہلم سمیت صوبہ بھر کے سکولوں میں گزشتہ سال متعارف کرائی گئی ہفتہ وار دو چھٹیوں کی پالیسی کے منفی اثرات سامنے آ گئے۔ امسال میٹرک اور نویں جماعت کے مایوس کن نتائج نے طلبا، والدین اور سول سوسائٹی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس صورت حال نے یہاں تک کہ وزیرِ تعلیم کو بھی وضاحت دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے گزشتہ سال اگست میں سکولوں میں ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان کیا تھا، جو والدین یا عوامی مطالبے کے بغیر اچانک نافذ کیا گیا۔ سماجی شخصیات اور تعلیمی ماہرین نے اس فیصلے کو اُس وقت ہی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے طلبا کے تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

نتائج کے مطابق، اس پالیسی کے باعث طلبا میں آرم طلبی اور وقت ضائع کرنے کی عادت پروان چڑھی، سلیبس بروقت مکمل نہ ہو سکا، اور نہ ہی ہفتہ وار ٹیسٹ منعقد ہو سکے، جو امتحانات کی تیاری کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

انجمن شہریان جہلم کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالشکور ملک نے حکومت سے سخت مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ”یہ قومی سانحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم کے شعبے میں غیر سنجیدہ اور تغلقانہ فیصلے کس طرح قوم کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وزیرِ تعلیم کو چاہیے کہ فوری طور پر دو چھٹیوں کی پالیسی ختم کر کے پرانا معیاری ٹائم ٹیبل بحال کریں تاکہ آئندہ کلاسوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔”

سول سوسائٹی نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ پالیسی برقرار رہی تو آنے والے سالوں میں نتائج مزید خراب ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف طلبا کا مستقبل بلکہ ملکی تعلیمی معیار بھی متاثر ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button