جہلم میں انجینئر محمد علی مرزا کیخلاف پیکا ایکٹ اور دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج

جہلم: یوٹیوبر اور مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمے کا اندراج پیکا ایکٹ کے تحت ہوا۔

تفصیلات کے مطابق یوٹیوبر اور مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف تھانہ سٹی جہلم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ایک شہری حمیر علی قادری کی مدعیت میں پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ رات انجینئر محمد علی مرزا کو حراست میں لے کر تھری ایم پی او کے تحت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق انہیں 30 روز کے لیے ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں نظر بند رکھا جائے گا۔ حکمنامہ مغربی پاکستان پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3(1) کے تحت جاری کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے میں ڈی پی او کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمد علی مرزا کی تقریریں قابلِ اعتراض، متنازع اور اشتعال انگیز ہیں جو عوامی امن و سکون اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ مرزا کے بیانات نفرت اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دیتے ہیں جبکہ ان کی سرگرمیاں امنِ عامہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پولیس نے ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی کو سیل کر دیا ہے جبکہ ان کے گھر اور اکیڈمی کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق نظر بندی کے دوران کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم مرزا کو اس فیصلے کے خلاف پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ میں درخواست دینے کا حق حاصل ہے۔ حکمنامہ متعلقہ حکام بشمول ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور چیف کمشنر راولپنڈی کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button