جہلم میں غیر معیاری اور آلودہ برف کی فروخت نے شہریوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا

جہلم شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں غیر معیاری اور آلودہ برف کی فروخت نے شہریوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
برف خانوں میں آلودہ پانی، زنگ آلود مشینری اور مبینہ طور پر مضر صحت کیمیکل کے استعمال سے تیار ہونے والی برف کے استعمال سے شہری گلے، معدے اور پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جب کہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی برف کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد آئس فیکٹریاں صفائی کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر کے آلودہ پانی سے برف تیار کر رہی ہیں۔ برف بنانے والے بلاکس زنگ آلود ہیں اور کئی فیکٹریوں میں برف کی تیاری میں صنعتی کیمیکلز کے استعمال کی بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص برف کے استعمال سے نہ صرف گلے کی سوجن، بخار، پیٹ درد اور اسہال جیسے امراض بڑھ رہے ہیں بلکہ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ باوجود اس کے کہ صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، محکمہ صحت، ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے اور متعلقہ فیکٹری مالکان کو صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق برف تیار کرنے کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں بھی اگر صورتحال کا سدباب نہ کیا گیا تو اجتماعی احتجاج پر مجبور ہوں گے۔



