دربار عالیہ مجاہد اعظم غازی کشمیر میں کانفرنس اور سالانہ عرس مبارک کی تقریب، سابق وزیراعظم کی خصوصی شرکت

دینہ: دربار عالیہ مجاہد اعظم غازی کشمیر پیر سید سردار علی شاہ بخاریؒ دینہ شریف میں 57ویں سالانہ عرس مبارک کی پُر نور تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے ساتھ ہی تاجدار ختم نبوت ﷺ و مخدومہ کائنات سلام اللہ علیہا کانفرنس کا بھی اہتمام کیا گیا۔
یہ عظیم الشان روحانی اجتماع دربار عالیہ کے مرکزی سجادہ نشین پیر سید فیاض حسین شاہ بخاری کی صدارت اور نائب سجادہ نشین، بانی و مرکزی چیئرمین تحریک تحفظ ختم نبوت و مخدومہ کائنات پاکستان بیرسٹر مخدوم پیر سید دلیر حسین شاہ بخاری کی زیر سرپرستی منعقد ہوا۔
تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں سے مشائخ عظام، علما کرام، پیرانِ طریقت، نعت خواں حضرات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ معروف نعت خواں شہباز قمر فریدی نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی آواز میں نعت خوانی کر کے حاضرین کے دلوں کو منور کیا، جبکہ ممتاز عالم دین اور مناظر اسلام مفتی حنیف قریشی نے عشقِ مصطفی ﷺ، عقیدہ ختم نبوت اور اولیائے کرام کے فیضان پر ولولہ انگیز خطاب کیا۔
عرس مبارک کے مہمانِ خصوصی سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی تھے جنہوں نے دربار عالیہ غازی کشمیر پر حاضری دی، چادر پوشی کی اور دربار کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے دربار کی دینی، روحانی اور قومی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے روحانی مراکز امت مسلمہ کی رہنمائی کا روشن مینار ہیں۔
تقریب میں دیگر نمایاں شخصیات میں پیر سید مبشر عاشق حسین شاہ شکریلہ شریف، پیر سید دلشاد حسین شاہ بخاری منصوری، پیر سید مخدوم شیر علی بخاری، پیر سید انور کاظمی، پیر سید ظہور شاہ کاظمی، پیر ظہور شاہ ہاشمی، پیر بھچر دینہ، پیر عمران شمیم قادری، مفتی اشتیاق (راولپنڈی)، صاحبزادہ پیر عابد حسین قادری (گوجرخان)، خلیفہ اعجاز قادری، پیر سید ابرار حسین شاہ طیبی، پیر محمد شاہ بخاری، پیر سید شمس حیدر شاہ بخاری، پیر سید عابد حسین شاہ، سید انصر شاہ، سید آزاد شاہ بخاری، پیر محمد اسلم شاہ چورا شریف، پیر سید طاہر حسین شاہ رسولپور سیداں، پیر سید حامد شاہ نقوی کلر سیداں، پیر سید فیض عاشق شاہ بخاری شکریلہ شریف، پیر آغا سبحان کلس شریف اور صاحبزادہ سید کونین دلیر بخاری شامل تھے۔
دربار عالیہ میں دن بھر زائرین اور عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ دربار پر چادر پوشی کی روحانی تقریب کے بعد اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں امت مسلمہ کی سربلندی، پاکستان کی سلامتی، اور خصوصاً فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔



