پنڈ دادنخان کے گاؤں "کہانہ” میں پانی کی شدید قلت، عوام سڑکوں پر نکل آئے

پنڈ دادنخان: تحصیل پنڈ دادنخان کی یونین کونسل کندوال کے گاؤں "کہانہ” میں پینے کے پانی کی شدید قلت نے انسانی زندگی کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی واٹر سپلائی کا نظام مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، اور دو ماہ سے پانی کی عدم دستیابی پر اہلِ علاقہ شدید احتجاج پر مجبور ہو گئے۔ مظاہرے میں بزرگ، نوجوان اور بچے بڑی تعداد میں شریک ہوئے جو "پانی پانی، ہائے پانی” کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ترقی یافتہ دور میں بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور گڑھے کھود کر پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف ناقابلِ استعمال ہے بلکہ انسانوں اور جانوروں کے لیے مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہے، جس سے صحت کے شدید خطرات لاحق ہیں۔

اہلِ علاقہ نے الزام لگایا کہ 2008 میں نڑومی ڈھن واٹر سپلائی سکیم کے تحت تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد قریبی دیہات بشمول کہانہ کو پانی فراہم کرنا تھا، مگر بدقسمتی سے یہ سہولت صرف للِہ شریف، ٹھڈی تھل اور جیٹھل تک محدود رہی جبکہ کہانہ جیسے دیہات آج بھی محروم ہیں۔

مظاہرین نے انکشاف کیا کہ صرف دو کلومیٹر شمال میں واٹر سپلائی کی پائپ لائن ٹوٹی ہوئی ہے، جہاں رات کے وقت چند قطرے پانی آتے ہیں، جنہیں حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں پہرہ دینا پڑتا ہے۔

احتجاج کے دوران پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اوورسینئر سید محدث شاہ موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ دریائے جہلم سے کہانہ کے لیے نئی واٹر سکیم جلد مکمل کی جائے گی۔

عوام نے حکومت سے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button