جہلم میں مضر صحت مشروبات کی فروخت عروج پر، شہری بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

جہلم: ضلع جہلم کے شہری علاقوں، دیہات، بازاروں، گلی محلوں اور سڑکوں پر گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی مضر صحت مشروبات کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث شہری مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

چوکوں، چوراہوں، اور گلی بازاروں میں جگہ جگہ بنائے گئے سٹالوں پر مشروبات کے نام پر ایسے شربت فروخت کیے جا رہے ہیں جن کی تیاری میں استعمال ہونے والا پانی ناقص اور غیر محفوظ ہے۔ ان مشروبات میں اکثر غیر معروف یا معروف کمپنیوں کے ملتے جلتے ناموں سے تیار شدہ نقل شدہ یا غیر معیاری پراڈکٹس شامل ہوتی ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

آلو بخارے کا شربت، سردائی اور دیگر رنگ دار مشروبات سستے داموں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہر عمر کے افراد کی توجہ حاصل کرتے ہیں، مگر ماہرین صحت کے مطابق ان کے مسلسل استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، گلے کی خرابی، پیٹ کے امراض اور فوڈ پوائزننگ جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات میں استعمال ہونے والا پانی گندا، جراثیم زدہ اور فلٹریشن سے عاری ہوتا ہے، جو بیماریوں کی جڑ ہے۔ سڑک کنارے اور دیہی علاقوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

متاثرہ شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان غیر معیاری مشروبات کی فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اور سخت چیکنگ کے ذریعے عوام کی صحت کو لاحق خطرات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button