خواتین کی صحت موجودہ دور کی اولین تر جیح ہونی چاہیے، حسن خالد

جہلم: خواتین کی صحت موجودہ دور کا ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے جسے اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ کم عمری کی شادی، خواتین میں تعلیم کی کمی، غربت اور دیگر سماجی رسومات صحت کے شعبے میں بہتری کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ آفیسر محکمہ صحت و آبادی جہلم فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) حسن خالد نے کیا۔ وہ "تنظیم آبادی برائے مساوی مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، جو محکمہ صحت و آبادی جہلم اور پاپولیشن ویلفیئر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ لاہور کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔ سیمینار میں لاہور سے آئی سینئر انسٹرکٹر عمیرا منیر نے خصوصی شرکت کی۔
انہوں نے ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، اس کے منفی اثرات، اور خواتین کی صحت پر پڑنے والے بوجھ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے یہ واضح کیا کہ وسائل کی کمی، صحت کی سہولیات پر بڑھتا دباؤ، اور معاشرتی بے حسی خواتین کی صحت کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) حسن خالد نے کہا کہ خواتین، خصوصاً گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین اور بچیوں کو عزت و احترام دینا اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کا دارومدار خواتین کی صحت اور تعلیم پر ہے، اور اس سمت میں تمام شعبوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
سیمینار میں ضلع بھر سے سماجی کارکنان، علمائے کرام، امام مساجد، خواتین مذہبی رہنماؤں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تمام شرکاء نے موضوع کی اہمیت کو سراہا اور آبادی کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔



