جہلم میں آئیسکو اور محکمہ سوئی گیس کے درمیان ’لوڈشیڈنگ مقابلہ‘، شہری شدید ذہنی اذیت میں مبتلا

جہلم: آئیسکو سرکل جہلم کی اربن سب ڈویژن اور محکمہ سوئی گیس کے مابین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے میدان میں سخت مقابلہ جاری ہے، دونوں وفاقی ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ شہری بجلی اور گیس کی عدم دستیابی کے باعث شدید ذہنی اذیت، بے چینی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو چکے ہیں۔

گزشتہ تین سے چار روز میں ہونے والی بارش اور آندھی طوفان کے بعد اربن سب ڈویژن نے تقریباً 24 گھنٹے تاخیر سے بجلی بحال کی۔ شہریوں کے مطابق 17 اور 18 اپریل کی درمیانی رات بجلی کی بحالی میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ نئی لائن ڈالنے والے عملے نے صبح 8 بجے سے سہ پہر 2 بجے تک پرمٹ حاصل کیا، مگر عملے کی تاخیر اور گھنے درختوں کے باعث یہ کام شام ساڑھے 5 بجے مکمل ہوا۔ اسی طرح 18 اور 19 اپریل کو بھی رات بھر بجلی بند رہی اور اگلے دن مسلسل نئی لائن کے نام پر بجلی غائب رہی۔

شہریوں نے سوال اٹھایا کہ رات بھر بجلی کی بندش کے بعد اگلے روز پرمٹ جاری کرنا سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، مگر لاوارث ضلع ہونے کی وجہ سے ضلعی عوام کو اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب، محکمہ سوئی ناردرن گیس نے بھی عیدالفطر کے بعد سے گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ صبح 7 بجے گیس بحال کی جاتی ہے، مگر صرف ڈیڑھ یا دو گھنٹوں بعد دوبارہ بند کر دی جاتی ہے۔ دوپہر میں صرف خوش نصیبوں کے چولہے جلتے ہیں، باقی شہری ہوٹلوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں بلال اسلم، شاہد عبد الکریم، محمد احمد، وسیم ذوالفقار، فیاض، عبدالغفار، شہریار علی، مرزا فاران بیگ اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ہوٹل سے کھانا لینا سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر ہے۔ گھروں میں بیمار افراد کو ہوٹل کا کھانا نہیں دیا جا سکتا اور بچے ناشتے کے بغیر اسکول و کالجز جا رہے ہیں۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی محتسب اعلیٰ، وفاقی وزیر توانائی اور وفاقی وزیر پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، اور عوام کو ان بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ لاپرواہ اور ناقص کارکردگی کے حامل افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button