ضلع جہلم میں مزدوروں کو کم از کم اجرت نہ مل سکی، محکمہ لیبر خاموش

جہلم: محکمہ محنت و انسانی وسائل پنجاب کی عدم توجہی کے باعث صنعتی و تجارتی اداروں، دکانوں، بھٹہ خشت، نجی اسپتالوں اور پرائیویٹ اسکولوں میں غیر ہنر مند ملازمین کو مقررہ اجرت نہ مل سکی۔

یکم جولائی 2024 سے پنجاب حکومت نے کم از کم یومیہ اجرت 1423 روپے جبکہ 26 دنوں کی تنخواہ 37,000 روپے مقرر کی تھی، تاہم 9 ماہ گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، اور محنت کشوں کا مسلسل استحصال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ لیبر کی عدم دلچسپی کے باعث ضلع بھر میں مزدوروں کو کم اجرت دی جا رہی ہے، جس سے محنت کش شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ضلعی آفیسر لیبر ویلفیئر جہلم کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ مزدوروں کی شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔

شہری تنظیموں اور محنت کشوں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لیبر اور ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور جہلم میں فرض شناس، ایماندار افسران و عملہ تعینات کیا جائے تاکہ مزدوروں کو پنجاب حکومت کی مقرر کردہ اجرت مل سکے اور ان کا استحصال بند ہو۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button