جہلم میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، ضلعی اور مقامی انتظامیہ ہچکچاہٹ کا شکار


جہلم شہر سمیت گردونواح میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سست روی کا شکار ہے، ضلعی اور مقامی انتظامیہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ "کھلی اور کشادہ سڑکیں، صاف ستھرا پنجاب” کا خواب جہلم کے بیشتر علاقوں میں اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
جہلم شہر میں بااثر افراد نے عوامی گزرگاہوں اور سرکاری جگہوں پر کئی دہائیوں سے قبضہ جما رکھا ہے جو آج بھی قائم دائم ہیں۔ تحصیل روڈ، پروفیسر کالونی، سول لائن روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ، میجر اکرم شہید روڈ، محلہ سلمان پارس، پرانا ریلوے پل روڈ سمیت دیگر علاقوں میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ شہریوں اور معززین کی متعدد شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق، 19 فروری 2009 کو جاری کردہ رپورٹ برائے چھٹی نمبری 128 میں تجاوزات کی مکمل تفصیل موجود ہے، جبکہ 1940 کے سرکاری ریکارڈ میں بھی شہر کی اصل حدود درج ہیں، جن کی بنیاد پر آپریشن کیا جا سکتا ہے۔ تاہم متعلقہ ادارے عملی اقدامات سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔
مزید برآں، اندرون شہر میجر اکرم شہید روڈ پر نکاسی آب کے نالے پر قبضہ کر کے پختہ تجاوزات قائم کر دی گئی ہیں جبکہ قبرستان چوک میں کباڑیوں نے کئی فٹ تک سرکاری جگہ پر قبضہ جما کر کباڑ رکھ دیا ہے جو کہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی وزیر بلدیات اور کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لے کر بلا تفریق تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



