جہلم میں 14 سالہ لڑکے کو بدفعلی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا

جہلم میں عدالت نے 14 سالہ یتیم لڑکے سیف اللہ کے قتل اور بدفعلی کے کیس میں مجرم امیر حمزہ کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ واقعہ 2024 میں پیش آیا تھا، جب مقتول سیف اللہ کو ملزم نے بدفعلی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 19 اکتوبر کو جہلم کے نواحی علاقے رسول نگر خورد کے رہائشی 14 سالہ یتیم لڑکے سیف اللہ کی لاپتہ ہونے کے بعد تشدد زدہ لاش قریبی کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔ مقتول کی لاش پتھروں سے مارنے کے نشانات سے بھری ہوئی تھی اور بدفعلی کے شواہد بھی ملے تھے جس کے بعد پولیس نے مقتول کی لاش کے قریب خون آلود پتھر تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا۔

پولیس کے مطابق مقتول سیف اللہ کو علاقے کے لڑکے امیر حمزہ نے گھر سے بلا کر اپنے لے گیا اور پھر اس کے ساتھ بدفعلی کی۔ مقتول نے بعد میں ملزم کو دھمکی دی تھی کہ وہ اس کے غیر اخلاقی عمل کے بارے میں گھر والوں کو بتا دے گا جس پر ملزم نے سیف اللہ کو بے دردی سے پتھروں سے مار کر قتل کر دیا۔

مقتول کے قتل کے بعد پولیس نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا، جن میں سے ایک امیر حمزہ تھا۔ پولیس نے شواہد جمع کر کے مجرم کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ملزم امیر حمزہ کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ جنسی زیادتی کے جرم میں عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے اس فیصلے کو قانون کی فتح کی محنت اور لگن کو سراہا اور ان کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انصاف کا عمل بغیر کسی دباؤ یا رکاوٹ کے جاری رہے گا، اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں ملیں گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button