زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، غریب عوام شدید پریشان

جہلم: زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس کے باعث عام شہریوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز سے ادویات خریدنے والے شہری قیمتیں سن کر حیران و پریشان ہو جاتے ہیں جبکہ سیریس مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔

عوامی حلقوں نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادویہ ساز کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینے سے قیمتوں پر سرکاری کنٹرول کا نظام ختم ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل ڈیوائسز پر بھی 70 فیصد تک ٹیکس عائد کر دیا گیا، جس کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈال دیا گیا ہے۔

حکومتی پالیسی کے تحت دواؤں کی ڈی ریگولیشن کے بعد انسولین، ٹی بی، کینسر اور دل کے امراض کی دواؤں کی قلت تو ختم ہو گئی ہے، مگر ان کی قیمتیں اتنی زیادہ بڑھ گئی ہیں کہ عام شہری انہیں خریدنے سے قاصر ہیں۔

مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر صحت اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور ادویات کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button