مہنگائی میں اضافہ، سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پر عوام کا احتجاج، انتظامیہ کی خاموشی

جہلم: حکومتی دعوے ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہو گئے ہیں کیونکہ شہر اور ضلع بھر میں مہنگائی کا طوفان عروج پر ہے، جس نے متوسط اور غریب طبقہ کے افراد کو بے بسی کی تصویر بنا دیا ہے۔ اشیاء ضروریات زندگی پر حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے تمام تر دعوے محض دعوے ہی بن کر رہ گئے ہیں۔
جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں دکاندار سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ زائد قیمتوں پر اشیاء بیچنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شہری سرکاری نرخوں پر اشیاء خریدنے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے بے عزت کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت کے وزراء ٹی وی چینلز پر مہنگائی میں کمی کے بلند و بالا دعوے کرتے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
غریب اور متوسط طبقہ کے افراد کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔ ان افراد کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے بھی انتظامی افسران دکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں، لیکن کسی بھی حکومتی ادارے سے انہیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کریں۔



