تکبر کی سیاست تین خاندان کھا گئی

جہلم کے تین سیاسی خاندانوں کا شمار ان اہم خاندانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں سے اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا ہے۔ یہ خاندان عوام کی طاقت اور سیاسی منظرنامے کی گہرائیوں سے بخوبی واقف تھے، اور اپنے تجربے اور حکمت عملی سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان خاندانوں میں غرور اور اقتدار کا نشہ بڑھتا گیا، جس نے انہیں عوامی خدمت اور زمینی حقائق سے دور کر دیا۔ یہ سیاسی تکبر ان کے زوال کا سبب بن رہا ہے، اور اگر انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مقامی سیاست میں ان کی جگہ کوئی اور لے لے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ اقتدار اور طاقت اکثر انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ سیاسی میدان میں قدم جمانے والے بہت سے سیاست دان اپنی طاقت کو قائم رکھنے کے لیے عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جب تکبر کی سیاست اپنا رنگ دکھاتی ہے تو اس کا مطلب عوام سے دوری اور حقیقی مسائل سے لاتعلقی ہوتا ہے۔ جہلم کے ان تین خاندانوں کا حال بھی ایسا ہی ہوا۔ ان خاندانوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایک وقت ایسا دیکھا جب ان کی بات کو علاقے کے عوام بڑی اہمیت دیتے تھے، مگر اب وہی عوام ان سے دور ہو چکی ہے۔

یہ خاندان عوام کو ایک ایسا نظریہ دینے میں ناکام رہے جس سے وہ خود کو منسلک محسوس کر سکیں۔ عوام کو توجہ، عزت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب یہ انہیں نہیں ملتا تو ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ عوام اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے کہ جن رہنماؤں کو انہوں نے اپنی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا، وہ اب اپنی ذات اور اپنی خواہشات کے گرد گھومتے ہیں۔ جب سیاست میں ذاتی مفاد اور تکبر آ جاتا ہے تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔

یہ کہاوت "نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری” بالکل اس صورت حال کو بیان کرتی ہے۔ اگر یہ خاندان خود کو ٹھیک نہ کر سکے اور اپنے طرزِ عمل میں بہتری نہ لائے تو مستقبل میں ان کے پاس نہ طاقت باقی رہے گی اور نہ ہی عوام میں ان کی عزت۔ عوام کی خدمت اور اُن کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکامی ان خاندانوں کے زوال کا سبب بنے گی، اور ان کا وہ سیاسی ورثہ جسے انہوں نے برسوں سے سنبھال کر رکھا تھا، ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

آج کے دور میں عوامی شعور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ عوام جانتی ہے کہ وہ کس طرح کے رہنماؤں کی ضرورت رکھتے ہیں، اور اگر ان کے منتخب کردہ نمائندے اُن کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں اور اپنے ہی مفادات کو ترجیح دیں تو عوام انہیں ترک کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یہی وجہ ہے کہ نئے رہنما سامنے آ رہے ہیں، جو عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سننے اور انہیں حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان تین خاندانوں کے لیے وقت ابھی بھی ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر غور کریں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ ان کی بقا کا انحصار عوام سے مضبوط تعلق پر ہے۔ اگر وہ عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، ان کے مسائل کو حل کرنے میں دل چسپی لیں، تو شاید ان کے لیے ایک اور موقع پیدا ہو جائے۔

لیکن اگر ان خاندانوں نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائی تو مقامی سیاست میں ان کا اثر ختم ہو جائے گا، اور ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا وہ بانس، جو ان کی شناخت کا ضامن ہے، خود ہی ختم ہو جائے گا۔ تب "نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری” ایک تلخ حقیقت بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button