سارہ شریف قتل کیس؛ پراسیکیوٹرز کی کارروائی مکمل، سوتیلی ماں ہی ’’اصل ولن‘‘ تھیں، والد کا عدالت میں بیان

لندن: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد 10 سالہ سارہ شریف کے والد عرفان شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس8اگست کو جب بنیش بتول کی کال پر جب گھر پہنچے تو سارہ بے جان جسم کو اپنے بازوؤں میں لیا تو مجھے لگا کہ میں بے جان ہوگیا ہوں، مجھ سے بولا نہیں جارہا تھا اور لگتا تھا کہ پوری دنیا مجھ پر آن گری ہے۔ سارہ شریف کے قتل کے مقدمہ میں پراسیکیوٹرز کے دلائل مکمل ہونے کے بعد دفاع کے وکلا کے دلائل شروع ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جہلم کی تحصیل دینہ کے علاقہ کڑی جنجیل کے رہائشی قتل کے ملزم عرفان شریف نے عدالت کو بتایا کہ وہ گھر پہنچے، بیڈ روم میں سارہ کو بنیش بتول نے گود میں لیا ہوا تھا۔ اس موقع پر بنیش نے دعویٰ کیا کہ سارہ دوسرے بچے کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے سیڑھیوں سے گر پڑی تھی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ اٹھ نہیں سکتی۔
عرفان شریف نے بتایا کہ انہوں نے سارہ کا ایک بازو اٹھایا تو وہ گر پڑا، میں نے اس کے چہرے پر تھپتھپایا تو اس نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ پانی دو، بہت پیاس لگی ہے، میں نے بنیش کو پانی لانے کو کہا، لیکن وہ سوتی رہی اور آنکھیں نہیں کھولیں، اس کی سانسیں نہ چلتے دیکھ کر چیخ کر کہا کہ ایمبولینس بلواؤ اور اسے سی پی آر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران بتول اردو میں کہتی رہی کہ اسے جگاؤ، یہ نہیں مر سکتی، لیکن15منٹ کے بعد بنیش نے مجھے گلے لگاکر کہا کہ اسے چھوڑ دو، یہ مر چکی ہے۔ عرفان شریف نے پوچھا کہ ایمبولینس کہاں ہے، تو بنیش نے کہا کہ کوئی فائد نہیں، یہ مر چکی ہے اور بینش نے ان کا فون بھی چھین کر کہا کہ اپنی فیملی کو بچاؤ، مجھے نہ تو اس وقت یقین آرہا تھا کہ میری بیٹی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے اور اب آیا ہے۔
عرفان شریف نے کہا کہ اس نے سارہ کی آنکھیں بند کردیں اور بنیش اور فیصل ملک رونے لگے، اس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر طے ہوا تھا کہ بنیش بتول فیملی کو لے کر رشتہ داروں کے پاس لوٹن چلی جائے گی اور پھر میں پولیس کو فون کرکے بتاؤں گا کہ سارہ میری کیئر میں انتقال کرگئی۔ بنیش نے اپنے خاندان کے افراد کو30کالیں کیں، لیکن انہوں نے خوف زدہ ہوکر مدد کرنے سے انکار کردیا۔
عرفان شریف نے بتایا کہ میں نے سارہ کے جسم کو صاف کرنے کی کوشش کی تو بنیش نے منع کردیا اور کہا کہ بے وقوفی مت کرو، عرفان شریف نے بتایا کہ وہ سارہ کے جسم پر سرخ نشان دیکھ کر حیران رہ گئے تو بنیش نے بتایا کہ دوسرے بچے نے اسے کاٹا تھا اور اس پر چڑھا ہوا تھا۔
عرفان نے بتایا کہ اس نے بچی کی موت کے حوالے سے اعترافی خط لکھا اور بنیش کی ہدایت پر یہ لکھا کہ ہم نے اسے کھو دیا ہے اور اسی رات پاکستان جانے کے لیے پرواز بک کی، عرفان نے کہا کہ اس طرح اپنی بچی کی لاش کو لاوارث چھوڑ کر جانا خودغرضی اور غیر انسانی تھا۔
عرفان نے10اگست کو پاکستان پہنچ کر سارہ کی لاش سے متعلق پولیس کو بتایا تھا، عرفان شریف، سوتیلی والدہ بنیش بتول اور چچا فیصل ملک کو گزشتہ برس13ستمبر کو واپس برطانیہ پہنچنے پر پولیس نے گرفتار کیا تھا اور ان پر قتل اور قتل کا سبب بننے یا اس میں مدد دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
عرفان شریف نے عدالت کو بتایا کہ وہ سارہ کی موت کا الزام اپنے سر لینے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اس کے جسم پر موجود زخموں کی تفصیل جاننے کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری ناک کے نیچے کیا کچھ ہورہا تھا، عرفان شریف یہ بھی کہ چکے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں تا کہ وہ کسی ’’ایول اور سائیکو‘‘ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دن گھر آئے تو سارہ کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے ٹیپ سے بندھے ہوئے تھے، بنیش مجھے دیکھ پر پریشان ہوگئی اور میرے چیخنے چلانے پر اس نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گی، لیکن اس کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے تھا اور پولیس بلانی چاہیے تھی۔ اس کا خاندان کہہ چکا تھا کہ اس پر کالا جادو کرایا گیا تھا۔



