زرعی ملک ہونے کے باوجود اجناس امپورٹ کی جارہی ہیں، مرزا قدیر بیگ

جہلم: کسان اتحاد ضلع جہلم کے صدر مرزا قدیر بیگ نے کہا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود آلو، پیاز، ٹماٹر، تمام سبزیاں اور دالیں بھارت سے، فروٹ ایران سے، گندم یوکرین سے اور تیل دار اجناس ملائشیا سے امپورٹ کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران آئی ایم ایف سے جو سود پر قرضہ لیتے ہیں۔ آدھا زرعی اجناس منگوانے پر، آدھا حکمرانوں اور بیوروکریٹ کی عیاشیوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ملک کے کل بجٹ میں سے 2 فیصد بھی زراعت پر خرچ کر دیں تو ہمیں اربوں ڈالر زرمبادلہ دے کر زرعی اجناس نہیں منگوانا پڑیں بلکہ اجناس بیرون ملک فروخت کر کے ڈالر کمائیں گے اور 70 آبادی بھی خوشحال ہو جائےگی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی تمام انڈسٹری کا انحصار زراعت پر ہے وہ بھی چلے گی۔ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں نہ وافر معدنیات، نہ گیس، نہ تیل اور نہ ہی اقوام عالم میں فروخت کرنے کیلئے مشینری جس سے ہم زر مبادلہ کما سکیں۔ آج اگر اس ملک کو اوور سیز پاکستانیوں کے ڈالرز کی مدد نہ ہوتی تو ملک دیوالیہ ہو چکا ہوتا زراعت اور زرعی شعبہ سے انحصار کرناہوگا کیونکہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر چھ ماہ بعدملکی خزانہ بھرنے اور اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کے ذخائربڑھانے کی استعداد رکھتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



