برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی غلطی تسلیم کرکے وزیراعظم شہباز شریف سے معافی مانگ لی

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی خبر میں وزیراعظم شہباز شریف پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان سے معافی مانگ ملی۔

ڈیلی میل نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ’14 جولائی 2019 کو شہباز شریف سے متعلق خبر، کیا پاکستانی سیاست دان کا خاندان زلزلہ متاثرین کے لیے دیا گیا برطانوی امداد کا فنڈ چوری کرکے پوسٹر بوائے بن چکا ہے، عنوان سے شائع ہوئی‘۔

بیان میں کہا کہ ’ہم نے شہباز شریف کے حوالے سے پاکستان میں قومی احتساب بیورو کی تفتیش پر رپورٹ کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ زیر تفتیش رقم جو برطانیہ کی حکومت کا پیسہ تھا وہ ڈی ای آئی ڈی گرانٹ ایڈ میں پنجاب کو ادا کردی گئی‘۔

ڈیلی میل نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ شہباز شریف پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے برطانوی سرکاری پیسہ یا ڈی ایف آئی ڈی گرانٹ ایڈ کے حوالے سے کسی غلط کام کا کبھی الزام نہیں دیا گیا‘۔

برطانوی اخبار نے کہا کہ ’ہم اس غلطی پر وضاحت اور معذرت کرتے ہوئے خوش ہیں‘۔

قبل ازیں 9 نومبر کو برطانوی عدالت کے جج نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کو ’میل آن سنڈے‘ کے پبلشر کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں جواب داخل کرنے اور مدعا علیہ کے اخراجات کی مد میں 30 ہزار پاؤنڈ بھی ادا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

کنگز بینچ ڈویژن کے جسٹس نیکلن کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور علی عمران یوسف کی کیس کی کارروائی پر حکم امتناع کی درخواست کو عدالت نے مسترد کر دیا گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عدالت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ شہباز شریف اور ان کے داماد علی عمران یوسف برطانوی اخبار کے پیش کردہ دفاع کا جواب دیں اور حکم امتناع کی درخواست کے لیے برطانوی اخبار کی جانب سے اس سے پہلے کی قانونی چارہ جوئی کی قیمت بھی ادا کریں۔

شہباز شریف کو 23 نومبر تک مدعا علیہ کو 30 ہزار پاؤنڈ کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے داماد دونوں کو برطانوی اخبار کی جانب سے پیش کردہ دفاع کے نئے جوابات داخل کرنا ہوں گے، اگر یہ جوابات سی پی آر پی ڈی 53 بی پیراگراف 4.7 کے تحت مقرر کردہ قواعد کے مطابق نہ ہوئے تو انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ڈیلی میل نے 2019 میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلٰی پنجاب برطانوی حکومت کی امدادی رقم کی چوری اور لانڈرنگ کی۔

اخبار ڈیلی میل نے الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کی رقم کا غلط استعمال کیا، خاص طور پر اس رقم کا غلط استعمال کیا جو پاکستان میں 2005 کے زلزلے کے متاثرین کے لیے امداد کے طور پر دی گئی تھی۔

بعد ازاں شہباز شریف نے جنوری 2020 میں اس غیرمعمولی الزام کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جس میں الزام واپس لینے، ہرجانہ ادا کرنے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

رواں برس مارچ میں اخبار نے شہباز شریف کے ہتک عزت کے مقدمے کا 50 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button