للِہ جہلم دو رویہ سڑک اور ہماری ذمہ داری

تحریر: شہزاد احمد ساہی

للِہ تا جہلم دو رویہ سڑک اور جلالپور شریف نہر بلا شبہ پی ٹی آئی حکومت اور بالخصوص چوہدری فواد حسین کے قابل تعریف و تحسین منصوبے ہیں جو کہ جہلم کی تعمیر و ترقی میں دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ بے شک ان منصوبوں کی منظوری کے دعوے باقی سیاسی جماعتیں اور ان کے ذمہ داران بھی کرتے آئے ہیں لیکن اس خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے کا سہرا چوہدری فواد حسین کے سر ہی جاتا ہے۔

للِہ تا جہلم کشادہ سڑک کی تعمیر سے جہاں جہلم کے عوام کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا اور گھنٹوں کے فاصلے سمٹ کر منٹوں کی دوری پر رہ جائیں گے اور ترقی کے مواقع میسر آئیں گے، کہیں ان خوابوں کی تکمیل میں شاید عجلت یا مناسب اقدامات کو پس پشت ڈال کر سڑک کی تعمیر ہو رہی ہے اس سے کہیں سڑک کے ساتھ ساتھ آباد مضافات اور خصوصاً دو رویہ سڑک کے ساتھ ملحقہ آباد متوسط طبقے کے لئے یہ مزید مشکلات کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

غریب، متوسط اور سفید پوش طبقہ کی ساری زندگی اپنے بچوں کے سروں پر چھت مہیا کرنے اور ایام زندگی گزارنے کے لئے چھوٹا سا گھر بنانے میں گزر جاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا گھر ہی ان کا کل سرمایہ حیات ہوتا ہے۔

میں نے موضع سنگھوئی کے مقام پر سڑک کی تعمیر کی تصاویر دیکھیں تو احساس ہوا کہ سڑک کو دیرپا پائیدار اور ٹریفک کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل، معیار کے مطابق تہہ در تہہ بنانے کے عمل سے اس کی سطح آبادیوں سے کافی حد تک بلند ہو گئی ہے جس سے صرف موضع سنگھوئی میں کم بیش 2 ہزار رہائشی مکانات اور لاتعداد دوکانوں، پلازہ جات و مارکیٹوں سے سڑک کی سطح بتدریج فٹوں سے لے میٹروں تک کی اونچائی پر چلی گئی ہے۔

میری ادارہ ایف ڈبلیو او، بلا تفریق تمام سیاسی سماجی شخصیات اور سماجی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ ضرور بالضرور اس بات کی طرف توجہ دیں اور اگر ممکن ہے تو ایسے اقدامات ضرور کریں کہ سڑک کی سطح ملحقہ آبادیوں کی سطح سے زیادہ بلند نہ ہونے پائے، FWO ایک اچھی شہرت کا حامل ادارہ ہے اس کے پاس ایسے حالات کا ضرور حل موجود ہو گا اگر ان کی پلاننگ میں کہیں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہے تو اسے دور کرنا ان کے لئے مشکل و ناممکن نہیں ہو گا۔

میرے علم میں یہ بات بھی ہے کہ سڑک کے دونوں اطراف نکاسی آب کے لئے نالے بھی بنائے جائیں گے لیکن نکاسی کے لئے سطح زمین بھی معاون ہو گی تو ہی ان نالوں کو کام میں لایا جا سکے گا۔ ابھی صرف سنگھوئی کے مقام پر کام تکمیل کے آخری مراحل سے گزر رہا ہے لیکن ابھی بھی للِہ تا جہلم سڑک کے ساتھ آباد موضعات کے علاوہ صرف نالہ بنہاں اور نالہ گھان کے درمیان بھی متعدد موضعات کی کثیر آبادی سڑک کے اطراف میں آباد ہے۔

ان موضعات میں سڑک کی تعمیر اور تکمیل کے دوران ابھی ایسے اقدامات کرنے کی گنجائش اور وقت موجود ہے جس کو کام میں لاتے ہوئے بہتر منصوبہ بندی اور محنت سے تہہ در تہہ عمل کو اونچا کرنے کی بجائے کھدائی کے عمل سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے بلا شبہ یہ کام مشکل ہو گا لیکن ایسی حکمت عملی اور کام پائیدار، خوبصورت اور عوام کے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گا۔ اس طرح عوام کو حقیقی خوشی اور سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔ جس سے ان کی زندگی کے شب روز متاثر نہیں ہوں گے۔ اور واقعی یہ منصوبہ ان کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی اور ان کی خوشحالی کا ضامن ثابت ہو گا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button