پنجاب حکومت اور میڈیا گریجویٹس

تحریر: سید ضیغم عباس

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا جو اظہار کیا تھا اس ویژن کے مطابق وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے میڈیا گریجویٹس کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کر کے ایسے اسٹوڈنٹس جو بیروزگار تھے اُن میں امید کی ایک نئی کرن جگا دی ہے ۔

وہ پروفیشنل فیلڈ میں کام کر کے نہ صرف تجربہ حاصل کرسکتے ہیں جس سے اس بات کا ازالہ ہو سکے کہ نوکری کے لیے پہلے تجربہ چاہیے بلکہ ماہانہ 20 ہزار کا وظیفہ بھی مقرر کیا گیاہے جس سے طلباء و طالبات نہ صرف روزمرہ کے اخراجات نکال سکتے ہیں بلکہ کچھ سیونگز بھی کر سکتے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت پنجاب بھر سے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر بلا تفریق 500 میڈیا گریجویٹس کی سلیکشن کی جائے گی۔ اسی پراجیکٹ کے حوالے سے چند روز قبل لاہور میں انٹرنیز کیلئے ایک روزہ سیمینار منعقد کروایا گیا اور اس کے تمام اخراجات بھی حکومت وقت نے ادا کیے، جس میں ملک کے نامور اور تجربہ کار صحافیوں اور ڈائریکٹوریٹ جنرل تعلقات عامہ کے عہدیدران کے ساتھ گفتگو اور اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا گیا جن میں مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی اور دیگر صحافیوں کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ روبینہ افضل، ڈائریکٹر کوآرڈینشن حامد جاوید اعوان اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔

سیمینار میں پنجاب بھر کے طلباء و طالبات نے شرکت کی پنجاب کے تمام اضلاع سے میڈیا گریجویٹس کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایسا ضابطہ بنایا گیا کہ ہر ضلع سے دو یا تین میڈیا گریجویٹس کو وزیر اعلی پنجاب انٹرنشپ پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ طالبات کو خصوصی نمائندگی دیتے ہوئے ان کے لیے 50 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی مردوں کا شانہ بشانہ میڈیا انڈسٹری میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اسٹوڈنٹس کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ لاکھوں طا لب علموں میں سے آپ کی سلیکشن میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے اور کوئی شک نہیں کہ آپ کا مستقبل میں ملک کے بہترین اور نامور صحافیوں میں شمارہو گا۔ میڈیا کا شعبہ ایک بہترین فیلڈ ہے جس میں سیکھنے کے بے شمار مواقع میسر ہیں۔

میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے جو دیگر ستونوں کو نہ صرف سپورٹ کرتا ہے بلکہ بیشتر امور پر نشاندہی کرتے ہوئے ان کی راہنمائی کرتا ہے اور معاشرے کی رائے بھی بناتا ہے۔ سیمینار میں وقفے کے دوران مخصوص لاہوری عمدہ کھانوں سے تواضع کی گئی جبکہ بعد از سیمینار شرکاء کے لیے بہترین چائے کا بھی انتظام کیا گیا۔

اس بہترین انٹرنشپ پراجیکٹ کا دورانیہ پنجاب حکومت تین ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ یا سال تک کا کردے تو اس کے ذریعے ینگ گریجویٹس کو سیکھنے کے بہت سے مزید مواقع فراہم ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button