پنشنرز کی محرومیاں کون ختم کرے گا

تحریر: چوہدری عابد محمود

حکومت پاکستان نے پنشنرز کے مسائل سے مکمل لاتعلقی اختیار کررکھی ہے، عدالتی عظمی کے فیصلوں کے باجود پنشنرز دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، متعلقہ محکموں کی عدم دلچسپی کی وجہ پنشنرز کے چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں۔

محکمہ ٹیلی فون سمیت وفاقی اور صوبائی محکموں کے ہزاروں ریٹارئرڈملازمین کے سلگتے مسائل اور حکومتی سرد مہری کی وجہ سے پاکستان بھر کے پنشنرز ریکارڈ توڑ مہنگائی اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہونے سے بے حد مسائل کا شکار ہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ اِن بوڑھے بزرگوں کے لیے موجودہ قلیل پنشن میں زندگی کی گاڑی کو کھینچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوچکاہے لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے پنشنروں کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی طور پرسنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

یہ کس قدر افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ حکومت ہر سال جب حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کرتی ہے اسی شرح سے مخصوص محکموں کے بزرگ پنشنرز کی پنشن بڑھا کر نہ جانے کون سا ’’احسانِ عظیم‘‘ کرتی ہے کوئی ان سے پوچھے کہ حاضر سروس کو تو کئی طرح کے الاؤنسز اور دیگر مراعات بھی ملتی ہیں جبکہ پنشنرز کا دار و مدر صرف اور صرف اسی محدود پنشن پر ہوتا ہے پھر انہیں حاضر سروس کے برابر پنشن میں اضافے کی سہولت دینے میں کیا منطق ہے؟

حالانکہ پنشنروں کو مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں اضافے سمیت دیگر کئی مراعات مثلاً فری میڈیکل، مفت سفری سہولتیں، لائبریریوں، پبلک پارکس اور تفریحی و تاریخی مقامات میں مفت داخلے کی سہولتیں ملنی چاہئیں۔ اسی طرح تمام وفاقی و صوبائی محکموں، خود مختار اداروں، کارپوریشنز، بینکوں کے پنشنرز سمیت صنعتی اداروں سے ریٹائر ہونے والے ای او بی آئی پنشنروں کو ہر طرح کے پراپرٹی ٹیکس، موٹر وہیکلز ٹیکس اور ٹال ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے لیکن وطن کے انتظامی، مالیاتی، تجارتی اور صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والے کل کے نوجوانوں اور آج کے بوڑھے بزرگ پنشنروں کو کون پوچھتا ہے؟۔

یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ اس وقت ملک میں پنشنروں کی کل تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سب ملک کا ’’قیمتی سرمایہ‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’’قیمتی ووٹر‘‘ بھی ہیں لیکن آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے انہیں لفٹ نہیں کروائی۔ آپ جمہوریت جمہوریت کی دن رات رَٹ لگانے والی سیاسی جماعتوں کے ذرا منشور پڑھ کر دیکھ لیں، آپ کو بوڑھے بزرگ شہریوں اور پنشنروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سطربھی ڈھونڈے سے نہیں ملے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ الیکشن والے دن ان بزرگوں کے قیمتی ووٹ اپنے حق میں ڈلوانے کے لیے ان کی منتیں ترلے کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔

حکمران بزرگ پنشنروں کے مسائل اور مشکلات کو اسی لئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ اس بڑھاپے کی عمر میں حکومتی ایوانوں کے سامنے احتجاج کرنے کی استطاعت اور ہمت نہیں رکھتے، یہ تو احتجاج، دھرنے، بھوک ہڑتال کرنے اور پولیس کے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور موسم کی شدت برداشت کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔

دوسری طرف سرکاری محکموں کے حاضر سروس ملازمین کی تنظیمیں اپنی طاقت اور وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں کئی کئی روز تک دھرنے اور احتجاج کے ذریعے اپنے مسائل حل کروا لیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تنظیمیں بھی اپنے اپنے محکموں سے ریٹائر ہونے والے پنشنروں کے حق میں کبھی بھی آواز بلند نہیں کرتیں۔ ایسی صورتحال میں بزرگ پنشنرز کس سے داد فریاد کریں؟ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button