جہلم سے یونیورسٹی آف گجرات جانے والے طلباء و طالبات کی تعداد زیاد ہ، بسیں صرف تین

جہلم کے گردونواح سے یونیورسٹی آف گجرات جانے والے طلباء و طالبات کی تعداد زیاد ہ، صرف 3 بسیں، ازان فجر سے قبل اٹھ کرطالب علموں کا سٹاپ پر کھڑا ہونا مقدر بن گیا، بسوں میں اوور لوڈ دنگ کی شکایات، ازان عشاء کے بعد طلباء گھر پہنچنے پر مجبور، بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ والدین

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ نے جہلم، دینہ اورگردونواح سے200 سو سے زائد طلباء طالبات کے والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں، یونیورسٹی آف گجرات نے جہلم اور گردو نواح سے آنے والے طلباء وطالبات سے ہزاروں روپے کرایہ لینے کے بعد انتہائی خستہ حال بسوں پر سفر کرنے پر مجبور کر دیا۔

200 سو سے زائد طلباوطالبات کے لیے صرف تین خستہ حال بسیں جس میں اکثر طالب علم کھڑے ہو کر دو سے تین گھنٹے سفر کر کے تھکے ہارے گجرات یونیورسٹی پہنچتے ہیں، جہلم سے یہ بسیں اذان فجر سے پہلے روانہ ہوتی ہے والدین اور طالب علموں کو 4 بجے اٹھ کر تیار ہونا پڑتا ہے اسی طرح چھٹی کے بعد سات سے رات آٹھ بجے واپس کھڑے ہو کر آنا انتہائی مشکل ہی نہیں ان بچوںاور بچیوں پر ظلم ہے۔

والدین کا کہنا ہے جو بچے 4بجے سے رات 8 بے تک گھر آتے ہیں ان کی صحت اورتعلیم پر بہت برا اثر پڑھ رہا ہے یونیورسٹی انتظامیہ سے متعدد بار کہا گیا ہے بسوں کی تعداد بڑھائیں اور صاف ستھری بسوں کا انتظام کیا جاے لیکن کئی ماہ سے ان کونئی بسوں کا لالی پاپ دیا جارہا ہے۔

جہلم اور دینہ سے اپنے بچوں کو بس سٹاپ پر چھوڑنے لانے کے لیے آنے والے والدین کا کہنا ہے اس مہنگائی کے دور میں کچھ والدین نے اس مصیبت سے بچنے کے لیے بچوں کو ہوسٹل میں رہاشیں بھی لے کر دیں ہیں اگر انتظامیہ بسوں کا اچھا انتظام کر دے تو ہزاروں روپے جو ہاسٹل پر خرچ ہو رہے ہیں وہ بچ سکتے ہیں اور طالب علم بھی آسانی سے اپنے مقررا وقت پر یونیورسٹی پہنچ سکتے ہیں اور سکون سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

والدین اور طالبعلموں کا یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ، وزیر تعلیم وزیراعلی پنجاب سے پرزور اپیل ہے ہماری مشکل کا حل کیا جاے جہلم دینہ کے لیے نئی بسوں کا انتظام فوری کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button