بدلتی رتوں کا پیغامبر، اسوج کا مہینہ، جب راتیں خنک، سحر سہانی اور شامیں مستانی ہوتی ہیں۔ رپورٹ

جہلم: بدلتی رتوں کا پیغامبر، اسوج کا مہینہ، جب راتیں خنک، سحر سہانی اور شامیں مستانی ہوتی ہیں، جب پرندے چاند کی روشنی میں دیر تک اٹھکیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔

جب دیہاتوں میں چھتوں اور کھلے صحنوں میں سونے والے دیسی کپاس سے بنے کھیسوں کی درزوں سے نیلے چاند کو تکتے تکتے اپنے اپنے چاند کی یاد میں کھو جاتے ہیں ، جب سبزے پر بہار آجاتی ہے اور کلیاں کھلنے کو بے قرار ہوتی ہیں ، جوہڑوں اور بارشوں سے بھرے گڑھوں میں کنول کے پھول اپنی سفیدی کی بہار دکھانے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔

بھادوں کے حبس بھرے مہینے کے بعد اسوج کا مہینہ شروع ہوتا ہے اس مہینہ میں بارش کم ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو یہ بھادوں کی طرح گرم اور حبس بھراہی رہتا ہے ، لیکن اکثر اس مہینہ میں رات کو چلنے والی ہوائیں زندگی بھری اور خوشگوار ہوتی ہیں اور سانس میں تازگی بھرتی جاتی ہیں پنجابی کلچر میں ان ہواؤں کو گھٹ کہا جاتا ہے۔

اس مہینہ میں ہونے والی ایک آدھ بارش ہی موسم کا مزاج ایک دم سے بدل دیتی ہے ، آدھی رات کے بعد اسوج کے مہینہ میں خنکی محسوس ہوتی ہے اور اوس بھی پڑتی ہے ، کھلے صحنوں اور چھتوں پر سونے والے چمکتے آسمان پر نیلے چاند کی بھرپور روشنی میں آسمان پر اڑتے پرندوں کی مست اڑانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

چاند میں اپنا اپنا چاند تلاش کرتے کرتے نیند کی گہری وادیوں میں کھو جاتے ہیں ،مائیں بچوں کو چندہ ماموں کی کہانیاں سناتی ہیں تو کبھی چاند میں چرخہ کا تنے والی بڑی اماں کی داستان ۔ہجر اور جدائی کا شکار لوگوں کو تو چاند کی سرزمین پر اپنے محبوب کے قدموں کی چاپ بھی سنائی دیتی ہے اور رات کی مستانی ہوائیں جدائی کی آگ کو اور بڑھا دیتی ہے۔

مادہ پرندے اس مہینہ میں انڈے دیتے ہیں مویشی اور انسان بھی اس مہینہ میں اگلی نسلوں کی بنیاد رکھتے ہیں ، اسوج میں دھوپ نسبتاً پیلی اور سائے لمبے ہوتے ہیں اس مہینہ میں اکثر فصلیں پکنے کو تیار ہوتی ہیں جبکہ موٹے چاولوں کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے، باسمتی چاول کی فصل کو اس مہینہ کی اوس اور ٹھنڈک بہتر انداز سے پروان چڑھاتی ہے۔

اسوج گرم رہے تو باسمتی کے چاول اچھے نہیں ہوتے اور اگر اسوج ٹھنڈا اور اوس بھر ا ہو تو باسمتی کی فصل بھی شاندار چاول صحت مند اور خوشبودار ہوتے ہیں اور پکنے میں لمبے بھی ہوتے ہیں۔ مولی ، تربوز اور کماد بھی اسوج میں پک جاتے ہیں اسوج کے بارے اکھان بھی مشہو ر ہے ۔

اسوج میں پھلوں کے پودوں اور درختوں پر کونپلے پھوٹنے کے لئے بے قرار ہوتی ہیں تاہم اس مہینہ میں مچھر کی خطرناک قسمیں پیدا ہوجاتی ہیں، اور اوس میں کوئی چیز اوڑے بغیر سونا نہایت خطرناک ہوتاہے اور اسکا نتیجہ تیز بخار اور جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں نکلتا ہے اور بخار کئی کئی دن جان نہیں چھوڑتا ،اسوج کا مہینہ دن کوا کثر گرم اور رات کو ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔

پنجابی اکھان مشہور ہے اسو ماہ نرالے دن نوں دھپاں رات نوں پالے (اسوج کا مہینہ انوکھا ہے دن کو تیز دھوپ ہوتی ہے اور رات کو ٹھنڈ لگتی ہے)۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button