لومڑی چلی ہاتھی کا شکار کرنے

تحریر: امجد بٹ

عقلمندوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے ایک چالاک لومڑی خرگوش کا شکار لے کر شیر کے پاس آئی اور بڑی لجاجت اور عاجزی سے بولی: ’’ بادشاہ سلامت جان کی امان چاہوں تو اک عرض کروں‘‘، ’’ ہاں ہاں، بولو بی لومڑی کیا بات ہے‘‘، ’’ہائے اللہ سرکار! آپ سوتے ہوئے کس قدر خوبصورت لگتے ہیں‘‘۔

لومڑی نے خوشامد کرتے ہوئے کہا ’’ اچھا لیکن شیرنی تو مجھے کہتی ہے کہ مجھے سونے کا سلیقہ نہیں،شیر نے اپنی آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ یہ سن کرلومڑی نے فوراً بات الٹ کر کہاـ: نہیں سرکار جب آپ اپنے ہاتھوں ہی بڑا سا رنگ برنگا چہرہ رکھ کر سوتے ہیں تو اف کمال کے لگتے ہیں دل کرتا ہے کہ آپ کو دیکھتے ہی رہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی شیر نے ایک دھاڑ مار کراپنے سر کو جھٹک کرگرد اڑاتے ہوئے کہاـ: ــ’’ اچھا تو یہ بات ہے اسی لئے تو دوسرے جنگل کی شیرنی مجھے آداب کرتے ہوئے گذرتی ہے۔‘‘ شیر نے خوشی سے سینہ پھیلاتے ہوئے کہا کہ لومڑی نے موقع غنیمت جانا اورشیر کے سامنے خرگوش رکھتے ہوئے کہا!’’ حضور مجھے اپنی نوکر بنا لیں،میں آپ کی سیوا کروں گی،شکار لاؤں گی اور آپ کے بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گی اورپڑھا بھی دیا کروں گی،میں روکھی سوکھی کھا لیا کروں گی۔‘‘

جنگل کے بادشاہ کو لومڑی کی یہ تجاویز پسند آئیں۔ شیر نے لومڑی کو بطور خدمت گار اپنے پاس رکھ لیا۔اب تو لومڑی کے گویا وارے نیارے ہو گئے۔وہ جنگل میں دندناتی پھرتی۔ہر جانور پر رعب ڈالتی۔جو کوئی بادشاہ کے خلاف بات کرتا یہ اسکا منہ نوچنے پہ آ جاتی۔شیر جب جنگل کے دورے پہ جاتا تو لومڑی اس سے دس قدم آگے یو اکڑ کر چلتی جیسے جنگل کی ملکہ ہو۔

اب لومڑی نے اپنی بھوک سے زیادہ شکار کرنا شروع کر دیا۔اسکی بھوک اس قدر بڑھ گئی کہ شیر کے بچوں کا حصہ بھی انکی دیکھ بھال کا ڈھونگ رچا کر کھا جاتی۔یہی وجہ تھی کہ اب لومڑی کا وزن بڑھنے لگا۔ایک روز ندی پر پانی پیتے ہوئے اسکی نگاہ اپنے عکس پر پڑی تو وہ اپنے آپ کو دیکھ کر حیران ہو گئی کہ اب تو اسکی جسامت شیر کے برابر ہو گئی تھی۔اور اب تو میں بادشاہ سلامت شیر لگ رہی ہوں۔

لومڑی نے گھوم گھوم کر اپنے آپ کو ہر زاویے سے دیکھااور پھر پانی میں غرا کر اپنے دانتوںسے اپنے ہی ناخن چباتے ہوئے بولی: بہت مضبوط ہو گئے ہیں۔ہوں بھی کیوں نہ۔۔۔ آخر شاہی خوراکیں کام آ رہی ہیں ۔ پھر اس نے اپنی ٹانگوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا،اب تو یہ بھی کمزور نہیں رہیں بادشاہ کی طرح مضبوط نظر آ رہی ہیں۔ہا۔ہا ۔ہا ۔ہا ۔ میں شیر کی بھی نانی ہوں۔میں نے شیر سے اسکے شکار کی تمام طریقے سیکھ لئے ہیں۔جب ہی تو میں سوچوں آجکل جنگل کے جانور میرا ادب و احترام کیوں کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ہاتھی اور گینڈا بھی مجھے دیکھ کرسہم جاتے ہیں۔

اب لومڑی نے سوچا کہ وہ کب تک شیر کے مارا بچا کھچا کھائے گی۔کیوں نہ ہاتھی کا شکار کر لیا جائے ۔ارے اب تو میں اس قابل ہو گئی ہوں کہ ہاتھی کو کان سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دوں۔ یہ سوچتے ہوئے لومڑی خوشی خوشی سینہ پھیلائے شیر کے پاس پہنچی اور بولی: ’’بادشاہ سلامت میں ہاتھی کا شکار کرنا چاہتی ہوں‘‘ ۔ یہ سنتے ہی شیر اپنی نشست سے اچھلا اور بولا : اوے خیر ہے نا لومڑی بی! کیوں ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔ اس میں بہکنے والی کون سی بات بادشاہ سلامت ۔آخر مجھ میں اب کیا کمی ہے ۔میری جسامت آپ جیسی ،سڈیل ڈول ،شکل و صورت ،چال ڈھال اورشکار کرنے کے انداز۔ سب کچھ ہی تو آپ سے مطابقت رکھتا ہےــ‘‘

شیر لومڑی کی باتیں سن کر حیران ہونے لگا کہ یہ خود فریبی کا شکار ہو گئی ہے یا کسی کے بہکاوے میں آ گئی ہے۔شیر نے اس کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اس میں بہت خطرہ ہے۔لیکن لومڑی پر ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا۔اسکے سر پر تو ہاتھی کوشکار کرنے کا بھوت سوار تھا۔شیر خاموش رہا ۔

لومڑی جس کے سر پر اب ہاتھی کا خون سوار تھا شیر کی طرح دھاڑتی ہوئی اپنے جسم کی کھال پھیلائے،زبردستی اپنے دانت تھوتھنی سے نکالے چلی جا رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ جوں ہی ہاتھی نظر آئے یہ اسے سونڈ سے کھینچتے ہوئے بادشاہ سلامت کے پاس لائے اور ہاتھی کے پہاڑ جیسے جسم پر کھڑے ہو کراعلان کرے کہ آج سے میں جنگل کی بادشاہ اور آج کے بعد میرا ہی حکم چلے گا۔اچانک اسے ندی کنارے ہاتھیوں کا غول نظر آیا۔

لومڑی شیر کی طرح دھاڑتی سینہ پھیلائے ہاتھی پہ لپکی اور اس کی پیٹھ پر ایک زوردارچپت رسید کی اوراس سے پہلے کہ وہ اپنے دانت ہاتھی کی گردن میں گاڑتی ہاتھی مسکراتے ہوئے بولا: ’’ بی لومڑی طبیعت تو ٹھیک ہے نا‘‘۔ لومڑی دھاڑی’’ خبردار مجھ سے زبان چلائی میں تیرے ساتھ کوئی اوچھل کود کرنے نہیں آئی۔ارے کمبخت جھکا اپنی گردن میں تو تیرا شکار کرنے آئی ہوں۔‘‘ ہاتھی نے کہا بی لومڑی کون سی بوٹی سونگھ کے آئی ہے جاؤ اور خرگوش اور ہرن کے بچوں کا شکار کرو۔

ہاتھی کوبجائے خوف زدہ ہونے کے یوں سنجیدہ دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہو گئی اور غصے سے ہاتھی کی سونڈ کو دانتوں ممیں چپا کراسے کھینچنے لگی ۔ہاتھی نے کہا لومڑی جی کیا کرتی ہو باز آؤ یہ میری سونڈ ہے۔لومڑی باز نہ آئی ہاتھی بھی مستی میں آ گیا اور اسکے پیچھے ہو لیا اب لومڑی یہ سمجھی کہ ہاتھی چند لمعوں میں زمین پر ڈھیر ہو جائے گا۔اور وہ اسکے گردن کاٹ لے گی اور ہاتھی کے مر جانے کے بعد وہ جنگل کی بادشاہ ہو گی۔

اسی سوچ میں اس نے سونڈ میں اپنے دانت اور گھاڑ دیے، ہاتھی کی سونڈ سے خون نکلا جسے دیکھ کر ہاتھی کے جسم میں غصے کے مارے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا،وہ زور سے چنگھاڑااور اپنی سونڈ سے لپکی لومڑی کو یہاں وہاں درختوں کے تنوں سے گھما گھما کر مارنا شروع کر دیا۔لومڑی ایک دو ضربیں لگتے ہی بے سدھ ہو کر دور جا گری۔اسے دن کو تارے نظر آنے لگے،ایسا لگا کہ اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔کافی دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو اس نے اٹھ کر چلنے کی کوشش کی تواسکی ہڈیوں سے کھڑ کھڑ کی آوازیںآنے لگیںوہ درد سے چلتی جاتی اور چیخیں مار مار کر کہتی جاتی:

’’ ہائے ،اف ،توبہ ارے شیر سے تو میں لومڑی ہی بھلی‘‘ جنگل کے تمام جانور لنگڑی لو مڑی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ریچھ نے کہا: کیا ہوا رے آنٹی ۔آج تو تیرا شیر والا دبدبہ نہیں

کسی نے کہا لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔بڑی چلی تھی ہاتھی کا شکار کرنے۔ارے تم پہ لازم ہے کہ اب ا پنی راہ لو۔لومڑی چیخی کیوں کیوں ۔کیا ہوا جو پو رے ہاتھی کا نہ سہی اسکی سونڈ کا تو شکار کیا ہے،ارے سب سے بڑے جانور کو گھسیٹنے کا کارنامہ سر انجام دیامیں نے۔ بس آج بھی بہت سی لومڑیاں اپنے سے بڑے جانوروں کے شکار کو نکلی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بھی سرف سونڈ سے لپکیں گی یا گردن تک پہنچیں گی کیونکہ اگر گردن تک نہ پہنچیں اور سونڈ سے لپکی رہیں تو پھر ان کا ’’ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button