برطانیہ میں سرمایہ کاری کی بنیاد پر مستقل شہریت کا قانون ختم

برطانیہ نے غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی بنیاد پر مستقل شہریت دینے کا قانون ختم کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ پریتی پیٹل نے اس امر کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی ” ٹائر ون ” انویسٹر ویزا اسکیم کو فوری طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس سکیم سے برطانیہ میں بدعنوان اشرافیہ کی رسائی آسان ہوگئی جبکہ برطانوی شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا۔ حکومت نے اسے اپنی نئی امیگریشن پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ پریتی پیٹل کا کہنا ہے کہ برطانوی امیگریشن سسٹم کو دھوکا دینے والوں کے لئے زیرو ٹالرنس ہے نئے امیگریشن پلان کے تحت برطانوی شہریوں کا سسٹم پر اعتماد اور اس امر کویقینی بنائیں گے کہ بدعنوان اشرافیہ برطانوی قومی سلامتی کے نظام میں داخل نہ ہوسکے اور برطانوی شہروں میں حرام کی کمائی نہ جانے پائے۔

یادرہے کہ 2008 میں متعارف کرائی جانے والی اس سکیم جسے گولڈن ویزا بھی کہاجاتا تھا کے تحت کوئی بھی غیر ملکی شہری برطانیہ میں 2 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرکے برطانیہ میں مستقل رہائش اختیار کرسکتا تھا۔

دو ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر درخواست کا فیصلہ پانچ سالوں میں جبکہ پانچ ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر یہ مدت مختصر ہوکر تین سال ہو جاتی تھی جبکہ 10 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر درخواست کا فیصلہ 2 سالوں میں کیا جاتا تھا۔ تاہم برطانیہ کی شہریت کا یہ راستہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ اس سکیم پر پہلے بھی فراڈ اور مشکوک سرمایہ کاری کے خدشات ظاہر کئے جا چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button