ضلع جہلم میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے متعلق سوشل میڈیا پر اور علاقے میں تہلکہ مچ گیا

پڑی درویزہ: ضلع جہلم میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے متعلق خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد علاقہ میں تہلکہ مچ گیا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر جہلم سے نظر ثانی اور وضاحت کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر جہلم غلام عباس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ ضلع جہلم کے لئے بلدیاتی انتخابات 2022ء کے لئے ضلع جہلم کو ووٹرز کی تعداد کے حوالے سے نیبر ہڈ کونسل اورمختلف ویلج کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

اس تقسیم کے مطابق جن آبادیوں کو ولیج کونسل کے حوالے سے ایڈ جسٹ کیا گیا ہے ان کا کوئی سیاسی یا سماجی یا جغرافیائی حوالے سے تعلق تک نہیں بنتا ۔ اس خبر کے نتیجے میں اس وقت سابق یونین کونسل پھلڑے سیداں، پنڈ متے خان ، پیل بنے خان ، لہڑی وغیرہ کے عوام کے علاوہ معززین اور سیاسیاسی قوتوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

انتخابی حلقہ بندیوں کی اس تقسیم کے حوالے سے نہ صرف پوری تحصیل سوہاوہ کا انتخابی نقشہ تبدیل کر کے ظاہر کیا گیا ہے بلکہ اگر ولیج کونسل کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ سابق یونین کونسل پھلڑے سیداں متاثر ہوئی ہے ۔اس یونین کونسل کی نصف اور بڑی آبادیوں پڑی درویزہ ، دئیوال ،بشمول گدڑال ، منگھوٹ ،چھبر سیداںوغیرہ کی آبادی کو نیلی پہاڑ کے دوسری جانب آبادیوں گوہڑہ اتم سنگھ ، بجوال، حیال ، اوت اور رائے پور وغیرہ میں شامل کرتے ہوئے ظاہر کیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ یونین کونسل پھلڑے سیداں کے ہی علاقہ جات پھلڑے سیداں ، گیگی پکھڑال ، گیگی سیداں ، موہڑہ کنیال اور ٹبی سیداں وغیرہ کو یونین کونسل پنڈ متے خان کے علاقہ جات دیالی ، جندوٹ ،شاہ سفیروغیرہ کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے ۔

اس غیرمنطقی تقسیم پر علاقہ بھر سے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے مشترکہ طور ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ضلع جہلم غلام عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کی مذکورہ خبر کے صداقت کے متعلق وضاحت کریں نیز اس غیر منطقی تقسیم پر نظری ثانی بھی کریں تاکہ عوامی ، سماجی اور سیاسی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button