نجی شعبہ تعلیم کو لگام اور سرکاری شعبہ تعلیم کو مقام کون دے گا؟، عوامی و سماجی حلقے

پڑی درویزہ: نجی شعبہ تعلیم کو لگام اور سرکاری شعبہ تعلیم کو مقام کون دے گا؟ نجی شعبہ تعلیم سالانہ امتحان لینے کے کمر بستہ جبکہ سرکاری شعبہ تو حکومت اوقات کار کا پابند رہے گا۔ صوبائی اور وفاقی وزیر تعلیم کے یکساں نظام تعلیم کے خواب کب پورے ہوں گے؟ عوامی سماجی حلقوں کے سوالات ۔

تفصیلات کے مطابق علاقہ بھر میں موجود پرائیویٹ (نجی ) شعبہ تعلیم کے تحت قائم تعلیمی اداروں نے فروری یا مارچ کے دوران سالانہ امتحانات برائے سال 2021-22ء کے شیڈ یول دینے کے لئے کمر کس لی ہے جبکہ سرکاری شعبہ تعلیم کے زیر نگرانی تعلیم ادارہ جات کو مئی تک امتحان لینے کی بات ہو رہی ہے۔

اس سرگرمی سے عوامی سماجی حلقے سوال کرتے ہیں کہ مساوات یا یکساں نظام تعلیم کے مطالب ہر گز سمجھ سے بالا تر ہیں ۔کیونکہ ایک طرف حکومتی ایوانوں اور وفاقی ، صوبائی وزارت تعلیم سے برابری، مساوات اور ناہمواری کے خاتمے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں لیکن ساتھ ہر شعبہ زندگی میں سرکاری شعبہ کو پیچھے اور نجی (پرائیویٹ ) شعبہ کو آگے کرنے کے اقدامات ببانگ دہل دیکھے جا سکتے ہیں۔

عوامی سماجی حلقوں کے مطابق بیان بالا قسم کے اقدامات سے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم کے کئی اعلانات کی کلی کھل جاتی ہے اور در پردہ خیالات بھی سامنے آنے لگتے ہیں ۔ عوامی سماجی حلقوں کے مطابق اگر نجی شعبہ تعلیم مقررہ وقت سے پہلے امتحانات لے گا اور سرکاری شعبہ مئی 2022ء میں امتحانات لے گا تو کار کردگی میں فرق واضح رہے اور بعد دونوں شعبوں کے نتائج برابر طلب کیے جائیں گے۔

عوامی سماجی حلقوں کا سوال یہ ہے کہ اس نا برابری یا عدم مساوات کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ سرکاری شعبہ کے اساتذہ یا دیگر ملازمین کو پابند تک نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے بچے صرف اور صرف سرکاری شعبہ کے اداروں میں داخل کرائیں گے، نیز اگر وفاقی اور صوبائی تعلیمی وزارتوں کو سرکاری شعبہ تعلیم سے تعلق یا محبت ہے تو پھر ہر دو شعبوں کو ایک ہی وقت سالانہ امتحانات منعقد کرنے کا ہر صورت میں پابند کیا جائے تا کہ مساوات یا برابری کے تصورات کی کچھ جھلک تو دیکھی جاسکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button