گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر بذریعہ بائیو میٹرک شروع ہونے کے باوجود مکمل سسٹم فعال نہ ہو سکا

جہلم: گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر بذریعہ بائیو میٹرک 13 جنوری سے شروع ہونے کے باوجودمکمل سسٹم فعال نہ ہو سکا، ڈوپلیکیٹ سمارٹ کارڈ اور درستگی این او سی ، ہائر پرچیز ، پرانے ماڈل کی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس اپ ڈیٹ وغیرہ کالا گن تاحال جاری نہ ہو سکا، جس سے اعتراض والے کیسز کی ٹرانسفر فیس ضائع ہونے کے خدشات بڑھنے لگے ۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفتر کے اندر بائیو میٹرک ڈیوائس تاحال فعال نہ ہوسکی ، ایک مرتبہ پھر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عملہ مینول سسٹم پر کام کرنے لگا۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 1 سال سے بائیو میٹرک سسٹم کے بلند و بانگ دعوے شروع کررکھے تھے جو کہ محض چند دن فعال رہنے کے بعد خود بخود غیر فعال ہو چکا ہے۔

بائیو میٹرک سسٹم سے کرپشن کا خاتمہ ہو چکا تھا مینول سسٹم کے فعال ہونے سے ایک مرتبہ پھر کرپشن کی راہیں ہموار ہو گئیں ہیں ۔ مینول سسٹم کے بحال ہونے کیوجہ سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کروانے والے افراد کے کاغذات پر اعتراضات لگا کر سائلین کو ذلیل و خوار کر نا معمول بن چکا ہے۔

سائلین نے وزیرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ بائیو میٹرک نظام کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری مسائل کو ً حل کروایا جائے اور فیسیں وصول کرنے کے دفتری اوقات کو بھی بڑھایا جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button