بارانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا ایک بڑا ثقافتی عمل

جہلم: بارانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا ایک بڑا ثقافتی عمل ہوا کرتا تھا، دور دراز علاقوں سے لوگ منگالی، ( ونگار) پر بلوائے جاتے تھے اور گندم کی کٹائی کے دوران ایک میلے کا سماں ہوا کرتا تھا۔

دودھ ،لسی ، مکھن ،مکئی اور تندور کی روٹیوں پر شکر رکھ کرکھانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا اور سہ پہر کے وقت چائے کے ساتھ گرما گرم جلیبیوں سے خود کو تروتازہ کیا جاتا تھا، مگر اب مشینی دور میں گندم کا کام آنکھ جھپکنے سے قبل ہی ہو جاتا ہے۔

اس بارضلع جہلم کے موسم میں بھی کروٹ بدلی ہے ، پورا اپریل اور رمضان المبارک بغیر بارشوں کے آخری دنوں میں داخل ہو چکا ہے، حالانکہ پچھلے سال رمضان المبارک کا آغاز بارش والے موسم میں ہوا تھا اور پورا رمضان ٹھنڈا گزر ا تھا۔

رواں سال رمضان المبارک کے19 روزے گزر گئے لیکن ضلع بھرمیں کہیں بارش کا نام و نشان نہیں ،جس سے موسم خاصا گرم ہو چکا ہے ،خشک موسم کیوجہ سے گندم کی کٹائی کا عمل تو شروع ہوچکا ہے جس سے گندم کی کٹائی فیصلہ کن مراحل میں داخل ہونے کو ہے۔

اس بار گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ کاشتکاروں کے سال بھر کے دانے وافر مقدار میں جمع ہوگئے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button