جہلم شہر ماحولیاتی آلودگی کے دہانے پر، موذی امراض پھیلنے کا خدشہ

جہلم: شہر ماحولیاتی آلودگی کے دہانے پر کھڑا ہے روزانہ کئی ٹن کوڑا اکٹھا ہوتا ہے جس کا 70 فیصد میونسپل کمیٹی کا عملہ اٹھا پاتا ہے ، انسانی حیات کے لئے سب سے خطرناک پلاسٹک بیگ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی رفاعی، فلاحی، مذہبی تنظیموں کے عمائدین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہلم اندرون شہر میں روزانہ کئی ٹن کوڑا اکٹھا ہوتا ہے ، جس میں سے میونسپل کمیٹی کا عملہ اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے محض70 فیصد اٹھا پاتا ہے جبکہ باقی ماندہ کوڑا ہوا کے ذریعے گھروں ، فضا اور گردونواح میں پھیل جاتا ہے اور انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

شہریوں نے بتایا کہ پلاسٹک بیگ کی عمرکئی دہائیوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے، پلاسٹک بیگز میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کینسر جیسے موذی امراض کا باعث بھی بنتی ہے، انتظامیہ کو چاہیے کہ شہر سمیت ملحقہ آبادیوں میں شاپر بیگز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button