ضلع جہلم میں قائم متعدد پولٹری فارمز کے کنٹرول شیڈز کی رجسٹریشن نہ ہو سکی

جہلم: ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک کی عدم دلچسپی ضلع بھر میں قائم متعدد پولٹری فارمز کے کنٹرول شیڈز کی رجسٹریشن نہ ہو سکی ، جس کیوجہ سے شیڈز مالکان مردہ چوزوں کو پبلک مقامات اور آبی گزرگاہوں میں پھینک دیتے ہیں ، جس کیوجہ سے بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل جہلم سمیت ضلع بھر کے مضافاتی علاقوں میں درجنوں پولٹری فارمز قائم ہیں جن کی رجسٹریشن کرنے کی ذمہ داری ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک پر عائد ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے محکمہ لائیو سٹاک اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

پولٹری فارمز کے مالکان بیماریوں سے جاں بحق ہونے والی مرغیاں اور چوزے پبلک مقامات سمیت آبی گزرگاہوں میں پھینک دیتے ہیں ، جس کیوجہ سے آبی حیات سمیت پرندے ان سے مختلف اقسام کے جراثیم آبادیوں میں منتقل کرتے ہیں جس کیوجہ سے موذی امراض پھیلتے ہیں۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ محکمہ لائیو سٹاک کے ذمہ داران پولٹری ایکٹ 2016 کے تحت سخت قانونی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں ، لیکن عملدرآمد نہیں کروایا جا رہا۔

شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک کے زمہ داران کو چاہیے کہ ضلع بھر میں قائم پولٹری فارمز کی رجسٹریشن کریں اور انہیں مردہ مرغیاں اور چوزے ذمین میں دفن کرنے کا پابند بنائیں ، محکمہ لائیو سٹاک کے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے شیڈز مالکان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات کا اندراج کروا کر سزائیں دلوائیں تاکہ شہری مہلک امراض سے محفوظ رہ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button