چوہدری فرخ الطاف کا سیاسی مستقبل

تحریر: محمد شہباز بٹ

تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو تمام اتحادی حکومت کے ساتھ تھے،عمران خان اور انکے کھلاڑی بھی پراعتماد تھے،اعتماد تو اسوقت ٹوٹا جب اتحادی جماعتوں سے پی ڈی ایم کی قیادت نے رابطے اور ملاقاتیں شروع کیں،کچھ قوتیں بھی جوڑ توڑ میں پس پردہ کردار ادا کرتی رہیں۔

عمران خان اور انکی ٹیم کو دھچکا اسوقت لگا جب چوہدری پرویز الٰہی نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے بارہ تیرہ اراکین تو سندھ ہاؤس میں ہیں جو حکومت کو ووٹ نہیں دیں گے،اسکے بعد مزاحمتی سیاست شروع ہوئی،منحرف اراکین کے خلاف صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ بھیجا گیا جس کا تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا،اچانک اتحادی جماعتیں بھی باری باری اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کرنے لگیں۔

پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے علاوہ علیم خان،جہانگیر ترین جیسے قریبی ساتھی بھی کپتان کا ساتھ چھوڑ گئے،پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی تعداد بھی بڑھتی گئی یہاں تک کے کپتان کے سب سے اٹیکنگ باؤلر سمجھے جانے والے کھلاڑی فواد چوہدری کے تایازادبھائی ایم این اے چوہدری فرخ الطاف بھی متحدہ اپوزیشن کو پیارے ہو کر منحرف ممبران اسمبلی کی لسٹ میں شامل ہ گئے۔

آگے جو کچھ ہوا جیسے ہواکس کا کیا کردار تھا سب بخوبی واقف ہیں۔بحرحال عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی اور شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان بن گئے، اس پر پی ٹی آئی نے #امپورٹڈحکومت نامنظور کا نعرہ لگایا جو تاحال ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی منحرگ اراکین کی جن میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے تایازاد بھائی چوہدری فرخ الطاف بھی شامل ہیں ج کے ٹکٹ کے لیے گزشتہ عام انتخابات میں فواد چوہدری نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا، چوہدری فرخ الطاف ایم این اے منتخب ہوئے۔

اس سے قبل وہ دو مرتبہ ضلع جہلم کے ناظم بھی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ انکے والد چوہدری محمد الطاف حسین گورنر پنجاب اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں وہ بڑی سوچ،بڑے قد کے نامور سیاستدان اور منجھے ہوئے وکیل تھے اس سے قبل ممبر قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے اور گورنرشپ کے دوران ہی دل کا دورہ پڑھنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔

بات منحرف اراکین کی ہورہی تھی تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ چوہدری فرخ الطاف پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جائیں گے یہاں تک کہ انکے خاندان کے لوگ سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین،انکے کزن چوہدری فواد حسین،فیصل فرید،فراز حسین،فوق شیر باز انکے پرسنل سیکرٹری فضل الحق فضلی اور دیگر یہ خبر سنکر حیران و پریشان ہوکر رہ گئے۔

میرے لیے یہ خبر بالکل حیران کن نہ تھی کیونکہ اس سے ڈیڑھ ماہ قبل جب ان سے کچھ شخصیات کے اسلام آباد میں رابطوں اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے انکے چند قریبی ساتھیوں اور پریس کلب کے سابق صدر عابد چوہدری کو یہ بتا دیا تھا کہ چوہدری فرخ الطاف(ن)لیگ میں شامل ہونے جا رہے ہیں اور وقت نے ثابت کیا کہ کچھ ایسا ہی ہوا،بہت سارے لوگ یہ سوال کرتے ہیں وہ ایسے حالات میں پی ٹی آئی کو چھوڑ کر کیوں گئے،فواد چوہدری سمیت لدھڑ خاندان کے دیگر افراد نے مختلف انداز میں غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔

چوہدری فرخ الطاف دوراندیش،ذہین اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں،بطور ضلع ناظم جہلم ان کی قیادت میں بلا تفریق اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہوئے لیکن شائد پی ٹی آئی کی حکومت میں انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھے گئے، اگرچہ ان کے حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے خطیر رقم دی گئی،درجنوں اسکول بھی اپ گریڈ ہوئے لیکن شاید کسی جگہ پر انکے اور فواد چوہدری کی درمیان پرسنلٹی کلیش بھی دکھائی دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری فرخ الطاف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہیں لیکن اختیارات محدود ہونے کے باعث وہ پی ٹی آئی میں uncomfortable دکھائی دئیے لیکن یہ کوئی ایسی وجوہات نہیں تھیں کہ وہ اپنے ساتھ منحرف کا لفظ لگواتے یا پھر اپنے خلاف نعرے لگواتے،بات کچھ اور تھی جس سے شائد ملکی مفادات وابستہ ہوں اور ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ بات چند اہم شخصیات تک محدود ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں چوہدری فرخ الطاف کی اہم شخصیت کے ذریعے میاں نواز شریف سے لندن میں بات ہوئی اور چوہدری فرخ الطاف اگلا الیکشن بھی این اے 66 سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پے لڑیں گے، ضلع جہلم میں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی انکی مشاورت کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے بھی انکے ساتھ رابطے میں ہیں انکے ساتھ بھی جوڑ توڑ کی سیاست میں لاثانی حیثیت رکھنے کچھ اہم افراد نے رابطہ کیا ہے لیکن وہ چوہدری فرخ الطاف کے اشارے کے منتظر ہیں،پی ٹی آئی کے کچھ اور چہرے بھی چند دنوں میں چوہدری فرخ الطاف کے گیت گاتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ دکھائی دیں گے۔

چوہدری فرخ الطاف کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن)ضلع جہلم سے ایک گروپ کے علاوہ تمام گروہ چوہدری فرخ الطاف سے رابطے اور مسلم لیگ ن میں ویلکم کرنے کے لیے بیتاب ہیں،اگلے چند روز میں عوامی رابطہ مہم شروع کی جارہی ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ چوہدری فرخ الطاف نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ گھرمالہ خاندان کا کوئی فرد ان کے ساتھ ایم پی کا الیکشن لڑے،چوہدری ناصر للّٰہ سے بھی انکے پرانے تعلقات ہیں،بحرحال آنے والے الیکشن میں صورتحال بڑی دلچسپ اور گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے،لوگ پوچھتے ہیں چوہدری فرخ الطاف کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا،کچھ کہتے ہیں انہوں نے سیاسی خود کشی کی ہے،کچھ نے ملے جلے رجھان کا اظہار کیا۔

میرا خیال ہے چوہدری فرخ الطاف دوراندیش سیاستدان ہیں انکا ضلع بھر میں ذاتی ووٹ بنک ہے،وہ کوئی ایسے ہی مسلم لیگ ن میں نہیں گئے اس میں مناسب حکمت عملی اور مستقبل کی منصوبہ بندی ہے،میرے خیال میں کچھ فیصلے پسند ناپسند سے ہٹ کر کرنے پڑتے ہیں اور وہ ہی چوہدری فرخ الطاف نے کیا۔

میرے خیال میں اگلے چند روز میں ان کے ساتھ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے بہت سارے چہرے دکھائی دیں گے اگر چوہدری فرخ الطاف نے عوامی رابطہ مہم شروع کی اور ہر خاص و عام کے لیے اپنے در کی دروازے کھول دئیے ،،،،، تو پھر ایک دفعہ پھر وہ جہلم کی سیاست کے معمار کہلائیں اور نہ صر انکا بلکہ عمار فرخ کا سیاسی مستقبل بھی روشن ہو گا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button