رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہری اور دیہاتی علاقوں میں خود ساختہ مہنگائی عروج پر پہنچ گئی

جہلم: رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہری ، دیہاتی علاقوں میں خود ساختہ مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ،غریب محنت کش سحر اور افطار کی نعمتوں سے محروم ،ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں نے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنا معمول بنا لیا۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس غیر فعال، شہری سراپا احتجاج، حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق شہر و گردونواح میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم دلچسپی کیوجہ سے خود ساختہ مہنگائی کا سونامی شہر و مضافاتی علاقوں کے گلی ، کوچوں میں داخل ہو چکا ہے۔شہر کی نسبت دیہاتی علاقوں میں مہنگائی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔

دیہاتی علاقوں میں مہنگائی کا تناسب تقریباً 40 فیصد سے زائد ہے جہاں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران ان علاقوں کا رخ نہیں کرتے دکانداروں نے اشیاء خوردنوش کے من مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں۔ سبزی ، دالیں ، گوشت ، آئل، گھی، پھل اور دیگر ضروری اشیاء کے نرخ دکانداروں نے خود ساختہ مقرر کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا روز کا معمول بنا لیا ہے۔

بحث کرنے پر دکاندار، صارفین سے جھگڑا کرنے پر اتر آتے ہیں دکاندار طبقہ ریٹ لسٹیں آویزاں کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے اور ریٹ لسٹ کے مطابق اشیاء خوردونوش سمیت دیگر ضروری اشیاء فراہم نہیں کرتے، دکانوں پر تمام تر اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جار ہی ہیں۔

ضلعی حکومت کی مبینہ ملی بھگت کے باعث شہری مسلسل لٹ رہے ہیں قصاب مافیا اور گرانفروشوں سے شہری تنگ آگئے ہیں پنجاب حکومت نے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کے اعلانات تو کر رکھے ہیں لیکن اس کے متبادل شہریوں کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔

سبزیوں ، پھلوں ، گوشت ، دودھ ،دہی سمیت اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اندرون شہر کے چھابڑی فروشوں ، ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرکے چلے جاتے ہیں اور فوٹو سیشن کروا کر سب اچھا ہے کا راگ آلاپ رہے ہیں جس کے باعث مضافاتی علاقوں میں موجود بڑے قصبوں کے مگر مچھ شہریوں کا مسلسل استحصال کر رہے ہیں۔

ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں مہنگائی کا تناسب دیگر اضلاع کی نسبت بہت زیادہ ہے ،ملاوٹ شدہ اشیاء کا دھندہ بھی شہر اور دیہاتوں میں عروج پکڑ چکا ہے ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں کے مسائل سے مکمل لا تعلقی اختیار کر لی ہے ۔

شہر کی، سماجی،مذہبی،تنظیموں کے عمائدین نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button