خاتون پولیس کانسٹیبل نے بھائی کو دوسری شادی کی اجات نہ دینے پر بھابھی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیئے

پنڈدادنخان: کھیوڑہ میں لیڈی کانسٹیبل نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بھابھی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیئے، 6 ماہ کا بچہ چھین کر تشدد کیا گھر سے نکال دیا گیا، دوسری شادی کی اجازت نہ دینے اورقانونی کاروائی کرنے پر قتل اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ، میرا شوہر اور اسکی بہن ماریہ نامی لیڈی کانسٹیبل جوکہ مقامی چوکی میں تعینات ہے بااثر ہیں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ کبریٰ بیگم کی اعلی حکام سے انصاف کی اپیل

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ شہر کی رہائشی کبریٰ بیگم نے تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ چند سال قبل میری شادی احسان بشیر سے ہوئی اور ہمارا چھ ماہ کا بچہ بھی ہے میرے شوہر احسان بشیر کا سلوک پہلے دن سے ہی میرے ساتھ اچھا نہ تھاشادی کے بعد سے میرا شوہر مجھ پر تشدد کرتا آیا ہے لیکن گھر برباد نہ ہونے کے ڈر سے برداشت کرتی آئی ہوں۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ احسان بشیر کے ساوؤال میں (ر)نامی خاتون سے ناجائز تعلقات تھے جس کا شکوہ کرنے پر نہ تو وہ مجھے خرچہ دیتا تھااور نہ ہی گھر کی طرف توجہ تھی الٹا مجھے مارتا پیٹتا تھا اور مجھ سے زبردستی دوسری شادی کی اجازت لینا چاہتا تھا۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ 5 اپریل کی شام کو احسان بشیر نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر جوکہ پنجاب پولیس میں بطور لیڈی کانسٹیبل مقامی پولیس چوکی میں تعینات ہے نے مجھے کمرے میں بند کر کے تشدد کیا اور مجھ سے میرا 6ماہ کا بچہ چھین کر مجھے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ بعد ازاں میرے گھر والے کھیوڑہ پولیس چوکی گئے جہاں ماریہ نامی لیڈی کانسٹیبل کی ایما پر ہماری دادرسی نہ کی گئی تو میری والدہ اور بہن نے لیڈی کانسٹیبل سے منت سماجت کرتے ہوئے میرا بیٹا واپس لیا ماریہ نامی لیڈی کانسٹیبل جوکہ بااثر ہے اور کھیوڑہ پولیس چوکی میں ہی تعینات ہے نے اپنے بھائی کو دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر میرے ساتھ ظلم کیا ہے۔

کبریٰ بیگم نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ بااثر لیڈی کانسٹیبل کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور مجھے ان سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button