جہلم شہر میں غیر تربیت یافتہ ان ٹرینڈ ہڈی جوڑ پہلوانوں نے خود ساختہ کلینک قائم کر لئے

جہلم: اندرون شہر میں غیر تربیت یافتہ ان ٹرینڈ ہڈی جوڑ پہلوانوں نے خود ساختہ کلینک قائم کر لئے ، پہلوانوں نے جگہ جگہ ہڈی جوڑ کے بڑے بڑے سائن بورڈ آویزاں کر کے سادہ لوح شہریوں کے جسمانی عضاء سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ درجنوں افراد عمر بھر کے لئے معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق اندرون شہر میں جگہ جگہ غیر تربیت یافتہ نا تجربہ کار ہڈی جوڑ پہلوانوں نے اپنے خودساختہ کلینک قائم کررکھے ہیں جنہوں نے سڑکوں پر ماہر ہڈی جوڑ کے بڑے بڑے سائن بورڈز آویزاں کر رکھے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ ان پہلوانوں نے ہڈی جوڑ کی آڑ میں حکمت کی ادویات بھی تیار کر رکھی ہیں۔ جہاں ہر آنے والے مریض کا پہلے پہلوان کھینچا تانی کرکے ہٹے کٹے 3 سے 4 پہلوان مریض کو قابو کر لیتے ہیں ، جس کی چیخ فریاد سننے والا بھی اللہ کے سواء کوئی نہیں ہوتا۔

اس کھینچا تانی میں ٹوٹی ہوئی ہڈی والا مریض اللہ اور اس کے رسول کے واسطے دیکر پہلوانوں سمیت اپنی جان بخشی کی منت سماجت اور فریادیں کرتا دکھائی دیتا ہے کہ مجھے زندگی بھر معذور رہنے دیا جائے میرے علاج کے لئے آپ فکر مند نہ ہوں مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے اس وقت مریض کی داد رسی اور چیخ و پکار بے مقصد ہوتی ہے کیونکہ پہلوان مریض کے لواحقین کو علاج سے قبل چکنی چپڑی باتیں سنا کر اعتماد میں لے لیتے ہیں۔

اس طرح مریض کے ساتھ آنے والے اس کے لواحقین بھی سب سے بڑے دشمن کا روپ دھار چکے ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام تر ہمدردیاں پہلوانوں کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہوتی ہیں ۔ جوڑوں کو جڑ سے ہلانے کے بعد پہلوان مریض کے لواحقین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایات جاری کر کے ہزاروں روپے اینٹھ لیتے ہیں متعدد مریض شکنجے میں قابو آنے کے بعد اپنی تندرست ہڈیاں بھی تڑوا بیٹھتے ہیں۔

ضلع جہلم کے شہریوں نے سیکرٹری ہیلتھ ،کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی سڑکوں پر قائم ہڈی جوڑ توڑ مافیا کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کو جسمانی عذاب سے بچایاجا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button