محبت میں ناکامی، بیروزگاری سے تنگ اور گھریلو ناچاقیوں سے دلبرداشتہ افراد موت کو گلے لگا نے لگے۔ رپورٹ

جہلم: محبت میں ناکامی، بیروزگاری سے تنگ، گھریلو ناچاقیوں سے دلبرداشتہ افراد موت کو گلے لگا نے لگے، خود کشی کرنے والوں کی اوسطً عمریں17 سے 25 سال ہوتی ہیں۔

تفصیلات کے مطا بق بیروزگاری، ذہنی دباؤ، گھریلو جھگڑوں، عشق و امتحانات میں ناکامی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر جہلم سمیت ضلع بھر میں خودکشی کرنے کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں، زندگی سے بیزار ہو کر موت کو گلے لگانے والے خواتین و مرد کی اوسطاً عمریں 17سے25سال کے در میان ہوتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطا بق صنف نازک خصوصاً شادی شدہ خواتین کی بڑی تعداد بھی انتہائی قدم اٹھانے میں پیش پیش ہوتی ہے، ضلع بھر کے مختلف ہسپتالوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطا بق مختلف وجوہات کی بناء پر موت کو گلے لگا نے کی کوشش کر نیوالے افراد کی تعداد میں دن بدن اضا فہ ہو رہا ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ضلع بھر میں خود کشی کر نے کی کوشش کے باعث روزانہ 1/2 مریض آتے ہیں جن میں زیا دہ تعداد جواں سال لڑکوں ، لڑکیوں کی ہو تی ہے، 90فیصد زہریلی ادویات استعمال کرتے ہیں جن میں چو ہے مار گو لیاں کھا نے والوں کی اموات کی شرح 60فیصد جبکہ گندم میں رکھنے والی گولیاں نگلنے سے 10میں سے8 افراد موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔

زہر نگل کر موت کو گلے لگا نیوالے افراد کی آخری سانسیں آپریشن تھیٹر میں معدہ صاف کرتے ہو ئے ختم ہو جاتی ہیں جہاں پرتعینات عملے کا کہنا ہے کہ جذباتیت اور جلد بازی میں خود کشی کی کو شش کر نے کے بعد ان تک پہنچنے والے افراد میں سے 95فیصد موت کو قریب دیکھ کر سانسیں تھمنے سے قبل ہی اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں اور زندگی کی بھیک ما نگتے نظر آتے ہیں لیکن اسوقت تک بہت دیر ہو چکی ہو تی ہے۔

اس حوالے سے ماہر نفسیات ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خود کشی کی کوشش کے بڑھتے ہو ئے واقعات کی سب سے بڑی وجہ ذہنی دباؤ ، کم عقلی، ضرورت اور شوق کے مطا بق آسائشوں سے محرومیاں ہیں اور خواتین میں خود کشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان گھریلو حا لات ، لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ہے۔

عوامی ، سماجی، رفاعی، فلاحی، مذہبی تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ میڈیکل سٹورز ، جنرل سٹورز سمیت سبزی منڈیوں ، غلہ منڈیوں ، کریانہ سٹوروں پر زہریلی ادویات چوہے مار، گولیاں، گندم میں رکھنے والی گولیوں کی سر عام فروخت سے بھی ان واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ زہریلی ادویات فروخت کرنے والوں کو باضابطہ لائسنس جاری کریں جو کہ شناختی کارڈ کی کاپی اور استعمال کی وجہ دریافت کرنے کے بعد زہریلی گولیاں فروخت کریں جس کے لئے زہریلی ادویات فروخت کرنے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ زہریلی ادویات دیتے وقت صارف کا نام پتہ ، شناختی کارڈ نمبر باقاعدہ رجسٹرڈ کریں تا کہ خودکشیوں میں کمی واقع ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button