ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر جہلم زنانہ مس کوثر سلیم کو 2 سال کے بعد لاہور تبدیل کر دیا گیا

جہلم: ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ مس کوثر سلیم کو 2 سال کے بعد لاہور تبدیل کر دیا گیا، محترمہ کوثر سلیم نے اپنی تعیناتی کے دوران ضلع بھر کے مختلف سکولوں کے دورے کئے اور سکولوں میں تعینات ٹیچرز اور دیگر سٹاف کے مسائل حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا، ضلع جہلم کے شہریوں نے ڈی ای او زنانہ کوثر سلیم کو دوبارہ تعینات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ مس کوثر سلیم کو گزشتہ روز لاہور تبدیل کر دیا گیا ، انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران ضلع کی چاروں تحصیلوں میں قائم سرکاری سکولوں کے دورے کئے، سکولوں میں اساتذہ اور سٹاف کے مسائل حل کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا، اس طرح 600 خواتین اساتذہ جو 2015 سے مستقل ہونے کی منتظر تھیں ان کو مستقل کروانے میں بھر کردار ادا کیا، ضلع بھر کے دوردراز سکولوں کے دورے کیے اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی۔

سابق ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ مس کوثر سلیم نے جب بطور ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس وقت کورونا کی وباء عروج پر تھی انہوں نے اس مہلک مرض کی پرواہ کئے بغیر خانہ بدوشوں کی بستیوں اور دور دراز کے دیہاتوں میں جا کر ماسک اور سینٹی ٹائزر تقسیم کیے اور کورونا سے آگاہی بارے زیرتعلیم بچوں اور ان کے والدین میں شعور اجاگر کیا۔

خانہ بدوشوں کو اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے پر آمادہ کیا جس کی وجہ سے بیشتر والدین نے اپنے بچے سرکاری سکولوں میں داخل کروائے جبکہ کورونا وائرس کے خوف کیوجہ سے چند ایک بچوں نے سکول چھوڑ دیاتھا ان بچوں کے والدین کو تعلیم کی اہمیت بارے آگاہی فراہم کرکے بچوں کو دوبارہ سکولوں میں داخلہ کروایا۔

اس کے علاوہ ایک ٹیچر کو اس کے خاوند نے قتل کر دیا تھا انہوں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مذکورہ ٹیچر کے اہل خانہ کی داد رسی کرتے ہوئے مقدمے کا اندراج کروایا اور مرحومہ کے جو محکمہ تعلیم کی طرف واجبات بنتے تھے وہ اس کے ورثاء کو دلوائے، ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے ایک سکول کی طالبہ نے صوبہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ضلع جہلم اور محکمہ تعلیم کا نام روشن کیا۔

2 سال کے دوران بہترین ایڈمنسٹریشن کیوجہ سے اساتذہ کو ان سے کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹیچر کو معطل یا سزا تجویز کی ، اس کے علاوہ دوران کورونا انہوں نے احساس کفالت پروگرام کی نگرا نی کے فرائض بھی سرانجام دیئے اور پسماندہ علاقوں میں قائم سکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات میں یونیفارم ،جوتے اور کتابیں ، کاپیاں بھی تقسیم کیں تاکہ مستقبل کے نونہال علم کی روشنی سے مستفید ہو سکیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے یہ ہے کہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ کے دفتر کے دروازے اساتذہ اور زیر تعلیم طلباء و طالبات کے والدین کے لئے ہمیشہ کھلے رہے ، تاکہ اگر کسی ٹیچر یا زیر تعلیم بچوں کے والدین کو کوئی شکایت ہو تو ان کی داد رسی کی جاسکے ۔ انہوں نے خواتین و مرد اساتذہ کو دوران سروس جو مسائل تھے ان کو حل کروانے کی بھرپور کوششیں کیں.حال ہی میں انکی ٹرانسفر جہلم سے لاہور کر دی گئی۔

ضلع جہلم کی شہری، سماجی، رفاعی، فلاحی، مذہبی ، کارروباری ، عوامی حلقوں نے محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فرض شناس، ایماندار ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر زنانہ مس کوثر سلیم کا تبادلہ منسوخ کرکے بطور ڈی ای اوزنانہ ضلع جہلم تعینات کیا جائے تاکہ بچے علم کی روشنی سے منور ہو سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button