لانگ مارچ؛ جہلم میں ن لیگ متعدد دھڑوں میں بٹ کر قائدین کا استقبال کرنے کیلئے کوشاں

جہلم: مسلم لیگ ن کا "مہنگائی مکاؤ مارچ” ن لیگی کا رکنوں کے لیے درد سر بن گیا۔ جہلم میں ن لیگ متعدد دھڑوں میں بٹ کر قائدین کا استقبال کرنے کے لیے کوشاں۔ دھڑابندی کی سیاست نے کارکنوں کو مایوس کر دیا۔ہر دھڑے کی کوشش کہ اسکے ساتھ کارکن زیادہ سے زیادہ ہوں۔جہلم کے ن لیگی دھڑوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گزشتہ انتخابات میں بھی ن لیگ کا جہلم سے صفایا ہو گیا تھا۔ اگر مقامی قائدین نے روش برقرار رکھی تو بعید نہیں کہ ماضی کی تاریخ دوبارہ دوہرائی جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر مسلم لیگ ن کی طرف سے ’’ مہنگائی مکاؤ ‘‘ مارچ کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کی قیادت مسلم لیگ ن کے قائدین کریں گے ن لیگ نے اپنے مارچ کا کامیاب کرنے کا ٹاسک ملک بھر سمیت جہلم کی ن لیگی قیادت کو بھی دے رکھا ہے جی ٹی روڈ پر واقع ہونے اور کئی دہائیوں تک مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ ہونے کی وجہ سے جہلم کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن کی جانب سے جتنی بھی احتجاجی تحریکیں چلائی گئی ہیں ان میں جہلم کا کردار مثالی رہا ہے لیکن گذشتہ کئی سالوں سے جہلم میں مسلم لیگ ن دھڑے بندی کا شکار ہے جس کی وجہ سے متعدد گروپ اپنے اپنے تائیں جہلم کی ن لیگی سیاست پر قابض ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

جہلم کی مقامی قیادت کی دھڑدے بندی کی وجہ سے ن لیگی کارکن غیر معمولی حد تک تذبذب کا شکار ہے۔ کارکن مرکزی قائدین کا ساتھ دینے اور مثالی استقبال کرنے کے لیے پر جوش اور ہمہ وقت تیار ہیں مگر انکے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تر ہو رہا ہے کہ وہ قائدین کا استقبال مقامی قیادت کے کس دھڑے کے کیمپ میں کھڑے ہو کر کریں ۔ جہلم ،سوہاوہ، دینہ اور پنڈ دادنخان کے ہزاروں لیگی کارکنوں کے لیے مقامی قیادت کی دھڑے بندی درد سر بنتی جارہی ہے ۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات بدستور برقرار رہے تو جہلم میں ن لیگ کا حشر 2018 کے انتخابی نتائج کی مانند ہو گیا جس میں مسلم لیگ ن جو جہلم میں کئی دہائیوں تک اپنا سکہ جمائے بیٹھی تھی کو انتخابات میںعبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جہلم جو مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ تھا کی فیصلیں ٹوٹ گئیں اور اب اس پر پی ٹی آئی قابض ہے۔

کارکنوں نے اعلیٰ قیادت سے ان غیر معمولی اور پریشان کن حالات پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور مقامی قیادت سمیت اعلیٰ قیادت سے اپیل کی ہے کہ انہیں دھڑے بندیوں سے بچا کر صرف مسلم لیگ ن کے ایک پیلٹ فارم پر کھڑا رہنے دیا جائے ۔ کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حالات کی نزاکت پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی مسلم لیگ ن کا جہلم میں شیرازہ بکھر جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button