یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ ایلیمینٹری سکول بدر سوہاوہ میں پروقار تقریب کا انعقاد

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول بدر میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ طلبا، اساتذہ کرام اور ہیڈ ماسٹر نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اس عزم کا آعادہ کیا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی ہرممکن مدد جاری رکھیں گے۔

تقریب کا اہتمام اسکول کی بزم ادب کمیٹی نے کیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ تلاوت کے لئے سکول کے ہونہار طالب علم حافظ منیب الرحمان،کلاس ہشتم کو دعوت دی گئی جس نے اپنی خوش الحان آواز میں قرآن مجیدکی آیات کی تلاوت کی۔

طلباء، اساتذہ کرام اور ہیڈ ماسٹر نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی ہرممکن مدد جاری رکھیں گے۔اس دوران ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے فضا میں گونجتے رہے اور طلبا کا جوش دیدنی تھا۔تقریب میں معلمین عبد القیوم اعوان،ظل اسد،شفقت حسین راجا،فیض الرحمن خان،گل ریز آزاد،محمد راشد کیانی،عابد اقبال موجود تھے۔

شفقت حسین راجا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور یہاں کے عوام کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم نے کشمیریوں کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی حمایت کی ہے۔

معلم محمد راشد کیانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان یہ حمایت اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت اور ان کی آزادی نہیں دی جاتی۔

معلم ظل اسد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں نے ناانصافی اور ریاستی بربریت کے سامنے ہمیشہ بہادری، مضبوطی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالمی برادری نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے انہیں ان کے سیاسی حقوق کی یقین دہانی کروائی ہے اور کشمیری اس وقت بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک انہیں ان کے سیاسی حقوق حاصل نہیں ہوجاتے۔

معلم گلریز آزاد ملک نے تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا۔ میں اقوامِ عالم سے مطالبہ کرتا ہوں اور انہیں یاد دلاتا ہوں کہ انسانیت کے اصول کے تحت ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حقِ خودارادیت دلوائیں۔ مسئلہ کشمیر عالمی ضمیر کے سامنے ایک ادھورے وعدے کی حیثیت سے موجود ہے۔ وہ دن دُور نہیں جب کشمیری بھارتی جبر و استبداد سے آزاد ہوجائیں گے، انشا اللہ۔

اسکول ہیڈ ماسٹر طالب حسین ہاشمی نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ یاران جہان کہتے ہیں کشمیر ہے جنت۔۔جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔ ’’ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ کشمیری بھائیوں کو ان کا حق خودارادیت ملنا چاہئے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی مدد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ہمارے کشمیری بھائیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بھارت فوری طور پر ہمارے کشمیری بھائیوں پر ظلم و ستم بند کرے۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کریں اور اس کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے میں اپنا کردار اداکریں۔

انہوں نے کہا کہ ان ہی طلبہ میں سے صلاح الدین ایوبی، شہاب الدین غوری، محمدبن قاسم، خالد بن ولید، سلطان محمود غزنوی، سید جمال الدین افغانی، علامہ اقبال اور بالخصوص حضرت قائداعظم محمدعلی جناح جیسی شخصیات پیدا کریں گے‘‘۔ تمام طلبہ اور اساتذہ نے ہیڈ ماسٹر کی سربراہی میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور فلک بوس نعرے لگائے گئے۔

تقریب کے اختتام پرمعلم ظل اسد نے آزادی کشمیر کے لئے اجتماعی دعا کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button