23 مارچ یوم پاکستان ۔۔۔ یوم تجدید عہد

تحریر: سید ضیغم عباس

برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو جب اقلیت قرار دے کر دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی تو قیامِ پاکستان کی ایک ایسی تحریک چلی جس کی موجوں میں تمام مسلم مخالف قوتیں بہہ گئیں اور پھر وہ دن آیا جس نے تاریخ میں مسلمانوں کو الگ پہچان اور رتبہ دلایا۔

جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں 23 مارچ 1940 ء کے ایک ناقابل فراموش دن کی جب اقبال کے خواب اور قائد کی انتھک جدوجہد پر مہر ثبت ہوئی۔بعد از دوپہر ڈھائی بجے منٹو پارک لاہور میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں اجلاس کا آغاز ہوا۔

مسلم لیگ کا جلسہ رکوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا یہاں تک کہ 19 مارچ کو پولیس نے خاکساروں کے جلسے پر فائرنگ کر کے 30 کارکنان کو شہید کر دیا تھا۔اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد منٹو پارک پہنچی تھی کیونکہ آج مسلمانانِ برصیغر کا دن تھا۔ آج قائد اعظم محمد علی جناح کی للکار کا دن تھا۔پورا لاہور شہر اس جلسہ میں امڈ آیا تھا لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔اسٹیج پر اقبال کا یہ شعر نمایاں تھاجو مسلمانوں کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کر رہا تھا:

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

میاں بشیر احمد کی نظم ــ’’ ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ ترنم کے ساتھ پہلی بار سنائی گئی جو پنڈال میں موجود لوگوں کے لہو کو گرما رہی تھی جو آج بھی دلوں کو گرما دیتی ہے۔قائد اعظم کا خطاب انگریزی زبان میں تھا اور فی البدیہہ تھا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد انگریزی سمجھنے سے قاصر تھی مگر سب اپنے محبوب قائد کا طویل خطاب انتہائی انہماک اور دلچسپی سے سنتے رہے اور داد و تحسین بھی دیتے رہے۔

ایک صحافی نے ایک چھابڑی فروش سے پوچھا کہ تم انگریزی نہیں جانتے پھر بھی تالیاں بجا رہے ہو تو اس نے کہا میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میرا قائد جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔ قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:’’ ہماری صورتحال یہ تھی کہ ہم شیطان اور گہرے سمندر کے درمیان تھے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ شیطان یا گہرا سمندر اس سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ بہر نوع ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہم غیر مشروط طور پر ہند کی آزادی کے حامی ہیں۔ لیکن یہ تمام ہند کے لئے آزادی ہونی چاہئے۔ کسی ایک طبقے کی آزادی نہیں ۔

قائد اعظم نے عوام کو خود انحصاری کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ پوری متانت سے، آپ خو د کو منظم کیجئے کہ آپ کسی پر تکیہ نہ کریں، سوائے اپنی طاقت کے، یہی آپ کا واحد تحفظ ہو گااور بہترین تحفظ۔خود پر انحصار کیجیے۔ اپنے حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لئے خود میں وہ قوت پیدا کریں کہ آپ اپنا دفاع خود کر سکیں۔

قائد اعظم نے مزید کہا کہ مسٹر گاندھی دیانتداری کے ساتھ کیوں تسلیم نہیں کر لیتے کہ کانگریس، ہندو کانگریس ہے اور وہ ہندوؤں کی ٹھوس تنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسٹر گاندھی کو یہ کہنے میں فخر ہونا چاہئے کہ ’’میں ہندو ہوں، کانگریس کو ہندوؤں کی زبردست حمایت حاصل ہے‘‘۔مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں صحیح کہتا ہوں اور مجھے امید و یقین ہے اور ایک اندھے کو بھی اب تک یقین ہو گیا ہو گا کہ مسلم لیگ کو مسلمانان ہند کی زبردست حمایت حاصل ہے۔

قائد اعظم نے مسلمانوں کو ایک تشخص دیتے ہوئے کہا کہ غلطی سے ہمیشہ سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ مسلمان ایک اقلیت ہیں اور بلاشبہ ایک طویل عرصے سے ہم بھی اس کے خوگر ہو گئے ہیں کہ بعض اوقات طے شدہ تصورات کو دور کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یقینی طور پر مسلمان ایک اقلیت نہیں ہیں۔

انگریز کے تیار کردہ برطانوی ہند کے نقشہ میں بھی ہم اس ملک کے وسیع علاقوں میں آباد ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ جیسے بنگال، پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان۔یہ سمجھنا بہت دشوار بات ہے کہ ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندومت کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔ یہ حقیقی معنوں میں مذاہب نہیں ہیں۔ فی الحقیقت یہ مختلف اور نمایاں معاشرتی نظام ہیں اور یہ ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم کی سلک میں منسلک ہو سکیں گے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کا دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رسم و رواج اور ادب سے تعلق ہے۔ نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ در اصل وہ دو مختلف تہذیبوں سے متعلق ہیں جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوار ہے۔یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے واجدن حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رزم مختلف ہے، ہیرو الگ ہیں اور داستانیں جدا۔

ایسی دو قوموں کو ایک ریاست کے جوئے میں جوت دینے کا جن میں سے ایک عددی لحاظ سے اقلیت اور دوسری اکثریت ہو، نتیجہ بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہو گا اور آخرکار وہ تانا بانا ہی تباہ ہو جائے گاجو اس طرح کی ریاست کے لئے بنایا جائے گا۔معروف انداز کے مطابق مسلمان اقلیت نہیں ہیں۔ ہم ذرا سا پلٹ کر دیکھیں ہند کے برطانوی نقشے کے مطابق آج بھی 11 صوبوں میں سے4 صوبوں میں مسلمان کم و بیش اکثریت میں ہیں۔

قوم کی کسی بھی تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں۔ان کا اپنا وطن، اپنا علاقہ اور اپنی ریاست ہونی چاہیئے۔ ہم آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اورآشتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام بھرپور روحانی، ثقافتی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں ترقی کریں۔ اس انداز سے جسے ہم بہترین سمجھتے ہیں، اپنے آئیدیل کے مطابق اور اپنے عوام کی سوچ کے مطابق۔

اگر برطانوی حکومت اس برصغیر کے لوگوں کے لیے امن اور خوشحالی کے حصول کی حقیقتا آرزومند اور مخلص ہے توہم سب کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ ہند کو ’’ خود مختار قومی ریاستوں‘‘ میں تقسیم کر کے بڑی قوموں کو علیحدہ وطن بنا لینے دیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ قطعی طور پر آپ اپنا ذہن تیار کر لیں اور پھر ترکیبیں سوچیں اور اپنے لوگوں کو منظم کریں، اپنی تنظیم کو مضبوط بنائیں اور پورے ہند میں مسلمانوں کو مجتمع کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام پوری طرح بیدار ہیں۔اسلام کے خادموں کی حیثیت سے آگے بڑھیں اور اپنے لوگوں کو اقتصادی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی طور پر منظم کریں۔ مجھے یقین ہے آپ ایسی طاقت بن جائیں گے جسے ہر کوئی تسلیم کرے گا۔‘‘

موجودہ دور میں مودی حکومت کے متعصبانہ اقدامات کو دیکھیں تو قائد اعظم کا ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ مسلمانوں کے تشخص کے لیے ناگزیر تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائد اعظم کی تعلیمات کو ملک کے اقتصادی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی معاملات میں عملی طور پر رائج کریں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button