معیاری اور صاف ستھری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کیلئے تشکیل دی گئی پنجاب فوڈ اتھارٹی معطل ہو کر رہ گئی

جہلم: چار دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق کروڑوں روپے کے سرکاری اخراجات سے شہریوں کو ملاوٹ سے پاک حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری و صاف ستھری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لئے تشکیل دی گئی، پنجاب فوڈ اتھارٹی معطل ہو کر رہ گئی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فرائض میں غفلت، سستی، لاپرواہی کے باعث جگہ جگہ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی فروخت کا سلسلہ عروج پر نیز فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن، شہریوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ناقص کارکردگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے عوام الناس کے ٹیکسوں اور خون پسینے کی کمائی سے کروڑوں روپے کا بجٹ خرچ کرتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی تشکیل کی گئی جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے جہلم سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں پنجاب فوڈ اتھارٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ شہریوں کو صاف ستھری حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق اشیاء خوردونوش میسر آ سکیں۔

جہلم میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران نے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ملاوٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جس کی وجہ سے دودھ ، دہی، گوشت، مرچ مصالحے، فاسٹ فوڈ، ہوٹلوں کے کھانوں سمیت میرج ہالز و میرج گارڈنز کے مالکان شہریوں کو ناقص و غیر معیاری کھانے فراہم کرکے شہریوں کو موذی امراض میں مبتلا کر رہے ہیں۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیاہے کہ جہلم ضلع بھر میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران و اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر چیک اینڈ بیلنس کا پابند بنایا جائے تا کہ شہریوں کو صاف ستھری اشیاء خوردونوش میسر آ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button