تحریک عدم اعتماد؛ جہلم میں سیاست پر شرطیں لگنا شروع، حکومتی اور اپوزیشن کارکنان میں جھگڑے معمول بن گئے

جہلم میں سیاست پر شرطیں لگنا شروع، تحریک عدم اعتماد کامیاب یا ناکام ہونے کی بحث میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کارکنان میں جھگڑے معمول بن گئے۔ لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کے لئے دکانوں پر بھی ٹی وی رکھ لئے گئے ، غریب طبقہ سیاسی رسہ کشی سے لا تعلق۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کے بعد جہلم ضلع بھر میں حکومت اور اپوزیشن کے کارکنان میں تو تو میں میں سے بات بڑھ کر ہاتھا پائی تک جاپہنچی ہے شہر میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور کانامی پر بڑے پیمانے پر شرطیں لگائے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکاہے۔

ضلع جہلم کے باسی3 حصوں میں تقسیم نظرآتے ہیں ، ایک گروپ حکومتی حمایت اور دوسرا مخالفت اور تیسرا غریب سفید پوش طبقہ دونوں سے لا تعلقی اختیار کئے ہوئے ہے ، تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے اور اسلام آباد واقعہ کے بعد ضلع جہلم میں تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں آپس کا بحث مباحثہ بڑھتا جا رہا ہے ، اور اب بات تکرار سے لڑائی جھگڑوں اور ہاتھا پائی تک جا پہنچی ہے۔

ضلع جہلم میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کو 2018 کے انتخابا ت مسلم لیگ(ن) کے گڑھ میں پی ٹی آئی نے پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے سخت ترین شکست سے دوچار کر دیا تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے کارکنان آج بھی رنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری ، کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے جہلم تا کندوال نہر، لِلہ تا جہلم 2 رویہ سڑک ، سنگھوئی گریڈ اسٹیشن ، ٹوبہ ٹراما سنٹر، جہلم ٹراما سنٹر ، پنڈدادنخان ، کھیوڑہ اور دینہ میں بچوں کے لئے اسٹیڈیم تعمیر کرکے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے ، مضافاتی علاقوں میں رابطہ سڑکیں۔

اندرون شہر اور چاروں تحصیلوں میں کنکریٹ سے تیار گلیاں ، کارپٹ سڑکیں تعمیر کرکے مضافاتی علاقوں کے مکینوں کی رسائی کو یقینی بنایا،جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان ساڑھے 3 سال سے زائد عرصہ حکومت کرنے کے باوجود بھی ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری ، مہنگائی اور کرپشن میں ترقی کے حوالے دے رہے ہیں۔

اندرون شہر کے تھڑوں ، گلی محلوں ، تفریحی مقامات ، پارکس اور خاص کرچائے کے ہوٹلوں اور سیلون میں نوجوان کے ایسے مناظر معمول بن گئے ہیں۔ جہلم شہر کے مختلف ہوٹلوں پر شام ہوتے ہیں اکثر اس طرح کی محفلیں سج جاتی ہیں جو رات دیر تک جاری رہتی ہیں اور بعض اوقات دوست بھی جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہے آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔

شہر کے رہائشی نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت جن نعروں اور وعدوں کے ساتھ آئی تھی اس نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ، انہوں نے کہا کہ میرا پیشہ مووی میکنگ ہے اور شادی بیاہ سمیت مختلف تقریبات میں ویڈیو کیمرہ کے زریعے پروگرام فلم بند کرتا ہوں تاہم جس روز تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی ہے کورونا وائرس نے پاکستانی معیشت سمیت دنیاء بھرکی معیشت کو جکڑ رکھا ہے جس کیوجہ سے کارروبار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

شہری کا کہنا تھا کہ پہلے آسانی سے گھر کا مہینے بھر کا راشن خرید لیتے تھے۔ لیکن اب مشکل سے ہی گھر کا خرچہ چلا رہے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کے حمایتی تھے اور جہلم سمیت جہاں بھی عمران خان جلسہ کرتے وہ پی ٹی آئی کے جھنڈے سمیت شریک ہوتے تھے ، لیکن اب تحریک انصاف سے توبہ کر لی ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

اسی طرح اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کارکن عمران اعوان نے بتایا کہ نواز شریف پر جان نچھاور کرنے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتا تھا پہلے نواز شریف ، پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے بیرون ملک بھاگ گیا ، اور اب پورے ملک کو بیووقوف بنا کر بیماری کا بہانہ کرکے جوتے پاکستان میں ہی چھوڑ کر بھاگ گیا ہے جس کیوجہ سے میرے سمیت ہزاروں لیگی ورکروں کے دل زخمی ہوئے ہیں ، ہم نے فیصلہ کیاہے کہ آئندہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی اختیار نہیں کرنی تمام سیاست دان زاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ عوام کی ووٹ سے برسر اقتدار آکر عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں۔

مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ ہمارے باپ دادا نے مزدوری کرکے ہمیں بڑا کیا اس دوران پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے میں آج بھی دن بھر مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پال رہا ہوں کسی سیاست دان نے ہمارے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ نہیں دیا، پہلی مرتبہ عمران خان وزیراعظم نے تقریباً 1 سال قبل 12 ہزار روپے حساس کفالت پروگرام کے ساتھ مدد کی اور رواں سال صحت کارڈ کی سہولت فراہم کرتے ہوئے مزدوروں کے دل جیتے ہیں۔

محنت کش کا کہنا تھا کہ چند روز قبل اپنے بیٹے کا آپریشن کروانے کی غرض سے سرکاری ہسپتال گیا جہاں انہوں نے سہولت کارڈ کے ذریعے مفت آپریشن کیا اور مفت ادویات فراہم کیں میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان غریبوں کا درد رکھنے والا حکمران ہے ، اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو 5 سال پورے کرنے دیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں اگر عمران خان نے پاکستان کے غیور عوام کو ریلیف نہ دیا تو 5 سال کے بعد عمران خان اکیلا ہی رہ جائے گااور اگر عوام کو سہولیات فراہم کیں تو اپوزیشن کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button