سلطان شہاب الدین محمد غوری

تحریر و تحقیق: یاسر فہمید

برصغیر کے عظیم سپہ سالار اور حکمران سلطان شہاب الدین محمد غوری کا آج یوم شہادت ہے جو تاریخ کے گمشدہ اوراق میں رہ گیا۔

شہاب الدین سلطنت غوریہ کا دوسرا اور آخری حکمران تھا جو 1202ء سے 1206ء تک سلطنت غوریہ کا حکمران رہا جو15 مارچ 1206ء کو دریائے جہلم کے کنارے ایک حملہ میں شہید ہو گیا۔ پاکستان کا دفاعی میزائل غوری بھی اس عظیم فاتح کے نام سے منصوب ہے اور اس عظیم مسلمان حکمران کا مقبرہ جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں واقع ہے جسے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان (مرحوم) نے اپنی ذاتی توجہ سے تعمیر کروایا تھا۔

شہاب الدین محمد غوری کا تعلق تاجیک قبیلے سے تھا۔ سیف الدین ثانی کے انتقال کے بعد غیاث الدین غوری سلطنت غوریہ کے تخت پر بیٹھا اور اس نے 567ھ بمطابق 1173ء میں غزنی کو مستقل طور پر فتح کرکے شہاب الدین محمد غوری جس کا اصل نام معز الدین محمد غوری ہے، غزنی میں تخت پر بٹھایا۔

سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کا نائب تھا لیکن اس نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور پاکستان اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ 598ھ میں اپنے بھائی کے انتقال کے بعد وہ پوری غوری سلطنت کا حکمران بن گیا۔

شہاب الدین محمد غوری کی فوجی کارروائیاں موجودہ پاکستان کے علاقے سے شروع ہوئیں اور وہ مشہور عالم درہ خیبر کی بجائے درہ گومل سے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس نے سب سے پہلے ملتان اور اوچ پر حملے کیے ملتان اور اوچ دونوں فتح کرلئے اس کے بعد محمد غوری نے پشاور اور 1182ء میں دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرہ عرب کے ساحل تک بڑھادا۔ شہاب الدین محمد غوری نے 1186ء میں لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت کو بالکل ختم کردی۔

پرتھوی راج کی کئی ہزار جنگی ہاتھیوں پر مشتمل 3 لاکھ سے زائد فوج کو شہاب الدین غوری نے شکست دی۔ اس طرح مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت ہندوستان میں قائم ہوئی جو 1857ء تک قائم رہی۔ پرتھوی راج کو شکست دینے کے بعد شہاب الدین نے دہلی اور اجمیر بھی فتح کر لیاہندوستان اور بنگال میں مسلم اقتدار کے بانی اور ایک بیدار مغز حکمران کی حیثیت سے شہاب الدین کا پایہ بہت بلند ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سلجوقیوں کے بعد خراسان اور ترکستان میں خوارزم شاہی خاندان کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ غوریوں کی اس خاندان سے مسلسل لڑائیاں رہتی تھیں۔ غیاث الدین کے بعد شہاب الدین کے زمانے میں یہی لڑائیاں جاری رہیں۔ ان لڑائیوں کے سلسلے میں شہاب الدین 601ھ میں خوارزم تک پہنچ گیا لیکن وہاں اس کو شکست ہوئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ محمد غوری جنگ میں شہید ہو گئے اس خبر کے پھیلنے پر پنجاب کے کھوکھروں نے بغاوت کردی۔

محمد غوری فوراً پنجاب آئے اور بغاوت کو کچل ڈالا لیکن بغاوت ختم کرنے کے بعد جب وہ واپس جا رہے تھے تو دریائے جہلم کے کنارے ایک اسماعیلی فدائی نے حملہ کرکے 15 مارچ 1206 ء میں انہیں شہید کر دیا، ان کا مقبرہ ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں چکوال موڑ جی ٹی روڈ سے تقریباً 17 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چوہان گاؤں میں ہے۔

عظیم مسلمان حکمران کے مزار پر لوگ آج بھی دنیا بھر سے آکر فاتحہ خوانی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button