ہم مخلوق سے چھپ کر تو گناہ کر سکتے ہیں اپنے خالق سے نہیں چھپ سکتے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: ہم مخلوق سے چھپ کر تو گناہ کر سکتے ہیں اپنے خالق سے نہیں چھپ سکتے، صدقات اور خیرات کرنے سے پہلے دیکھیں کہ میری کمائی حلال ہے، جائز ہے اس میں حرام شامل تو نہیں، کیا اس میں سود تو نہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے، لوگ حرام کا پیسہ بھی غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں جو گستاخی شمار ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام سے معاشرے میں خوبصورتی آتی ہے، انسانی حقوق و فرائض پر اسلام بہت زور دیتا ہے، انسانی حقوق کی مسلم و غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں ہے،زندہ رہنے کا ہر ایک کا حق ہے اور عقیدہ (مذہب) اختیار کرنے پر بھی ہر ایک کو اختیار ہے، اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر بندہ مومن نے کلمہ طیبہ کے ساتھ اللہ کریم سے ایک عہد کیا ہے کہ میں تیرے سوا کسی کو اپنا معبود نہیں بناؤں گا اور نبی کریم ﷺ کے طریقے (سنت) پر چلوں گااور اس عہد کی پاسداری تا دم آخر ہونی چاہیے اللہ کریم توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس وعدے کو نبھا سکیں، ہر بات میں اپنی انا، اپنی پسند کو رکھ لینا تکبر کرنا یہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، اللہ کریم زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں احکام الٰہی کچھ مان لینا اور کچھ کو چھوڑ دینا یہ درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے ہر انسان کی استعداد مختلف ہے عقل و شعور، کلام ہر پہلو سے دوسرے کے جیسی نہیں اگر سارا معاشرہ ایک جیسا ہوتا تو کوئی دوسرے کے کام نہ آتا، یہ فرق دنیاوی امور کی سرانجام دہی کے لیے ہے یہی انسانی مزاج شہادت دیتا ہے کہ اسے ایسا قانون چاہیے جس پر کاربند ہوتے ہوئے ہرکوئی اپنی حدودوقیود کا خیال رکھے جبکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذہنی استعداد استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں فساد کا سبب بنتے ہیں، کلام ذاتی حق و باطل کی پہچان کراتا ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button