دینہ میں ریل گاڑی روکو یا ریلوے اسٹیشن ختم کرو۔ عوامی حلقوں کا احتجاج

دینہ میں ریل گاڑی روکو یا ریلوے اسٹیشن ختم کرو، ریلوے حکام کا کروڑوں کے رقبہ پر قبضہ ہے پر ہمیں کوئی فائدہ نہیں، عوامی حلقوں کا احتجاج۔

تفصیلات کے مطابق ایک سروے کے دوران تحصیل دینہ کی عوامی حلقوں نے غصہ سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے حکام نے دینہ شہر کے بالکل درمیان میں کروڑوں اربوں روپے کی اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے لیکن اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں، یہاں سارے دن میں ایک ٹرین بھی مشکل سے رُکتی ہے اُسکا بھی کوئی کنفرم ٹائم ٹیبل نہیں ہے۔

آخر ہمارا کیا قصور ہے، ہمارے ساتھ ہر معاملہ میں سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے، ہم ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں، اگر منگلا روڈ کی طرف دیکھا جائے تو وہ 20 سال سے کچے رستہ کی مانند پہاڑی علاقہ کی شکل پیش کرتا ہے۔ قدیمی ریلوے اسٹیشن ہونے کے باوجود گاڑی نہیں رُکتی آخر ہم اس بات کو کیا سمجھیں؟۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دائیں بائیں ہر شہر کو ہر طرح کی سہولت سے بھرپور نوازا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا یہ قدیمی شہر دینہ جس کے ساتھ آزاد کشمیر تک لگتا ہے، یہاں گیس ریلوے اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے لیکن اب ہم چُپ نہ بیٹھیں گے کیونکہ ہمیں سمجھ آگئی ہے، اب ہم نے خود ہی بولنا ہے کیونکہ دینہ لاوارث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا وزیر ریلوے سے پُر زور مطالبہ ہے کہ یا تو راولپنڈی اور جہلم کی طرح ہر ریل گاڑی روکی جائے یا پھر یہاں سے ریلوے اسٹیشن ختم کیا جائے تاکہ ہم خود اپنی نسلوں کے بارے میں سوچیں کہ اُنہیں کس طرح بنیادی سہولیات سے دینی ہیں کیونکہ اگر ہمیں اس بات کا فائدہ نہیں ہو سکتا تو ہم بھی یہاں سے گاڑی گزرنے نہیں دیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button