دنیا میں سب سے تیرز رفتار انٹرنیٹ والے ممالک کون سے، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

آج کی دنیا میں انٹرنیٹ کے بغیر ڈھنگ سے جینے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اب ہر معاملہ کسی نہ کسی طور اور کسی نہ کسی حد تک انٹرنیٹ سے جُڑ چکا ہے یا جوڑا جاچکا ہے۔
خریداریاں اور ادائیگیاں انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہی ہیں۔ معلومات کا حصول انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ انٹرنیٹ کی مدد سے تعلیم حاصل کی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ تفریحِ طبع کا بھی بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ مختلف علوم و فنون کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی انٹرنیٹ ناگزیر ہے۔
اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کس ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کیا ہے۔ جن ملکوں میں انٹرنیٹ کی رفتار زیادہ ہوتی ہے وہاں علمی، کاروباری اور معاشرتی سرگرمیاں تیزی سے پنپتی ہیں، فروغ پاتی ہیں۔
دنیا بھر میں کروڑوں افراد کا روزگار اب براہِ راست انٹرنیٹ سے وابستہ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہی لوگ خیالات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں، سیکھتے بھی ہیں، سکھاتے بھی ہیں۔
ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے باقی دنیا پر واضح سبقت لیے ہوئے ہیں۔
امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے پیچھے ہیں جبکہ ایشیائی ممالک اس معاملے میں بہت بہتر حالت میں ہیں۔ 2018 سے اب تک مزید ایک ارب 50 کروڑ افراد آن لائن آئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی رفتار اور استعمال کے حوالے سے خطوں کے درمیان فرق بہت نمایاں ہے۔
جو ممالک آمدنی کے گراف میں بہت اوپر ہیں ان کے لوگ پانچ گنا رفتار والا انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور انٹرنیٹ کے استعمال میں وہ پس ماندہ یا کم آمدنی والے ممالک کے لوگوں کے مقابلے میں 20 گنا آگے ہیں۔
اب معاملات میں کچھ فرق واقع ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں انٹرنیٹ کی رفتار 428 اعشاریہ 53 میگا بائٹ فی سیکنڈ ہے۔ قطر کے انٹرنیٹ کی رفتار 356 اعشاریہ 74، کویت کے انٹرنیٹ کی رفتار 258 اعشاریہ 51، ڈنمارک کے انٹرنیٹ کی رفتار 149 اعشاریہ 73 اور بلغاریہ کے انٹرنیٹ کی رفتار 147 اعشاریہ 68 میگا بائٹ فی سیکنڈ ہے۔
پاکستان میں پائی جانے والی انٹرنیٹ کی سہولت ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار کے حوالے سے اوسطاً 100ویں مقام پر ہے۔ پاکستان میں ڈاؤن لوڈنگ کی عمومی رفتار 20 اعشاریہ 61 میگا بائٹ فی سیکنڈ ہے۔ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے نقطہ نظر سے پاکستان 15 اعشاریہ 6 میگا بائٹ فی سیکنڈ کی ڈاؤن لوڈنگ اسپیڈ کے ساتھ 141ویں پوزیشن پر ہے۔



