صوبائی محکموں میں بڑھتی ہوئی کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکا، سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کی کارکردگی سوالیہ نشان

جہلم: صوبائی محکموں میں بڑھتی ہوئی کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکا، سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی، شہریوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن لاہور سے نوٹس لینے کامطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کی صوبائی محکموں میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانی پر کارروائیاں نہ ہونا سرکل آفس اینٹی کرپشن کی کارکردگی پر گہرا سوالیہ نشان ہے۔
اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی محکموں میں کرپشن کابازار گرم ہے بغیر رشوت دیے کسی بھی ادارے میں کام نہیں ہوتا اگر اینٹی کرپشن سے رجوع کیاجائے تو تفتیشی افسران کرپٹ ملازمین کے ساتھ مک مکا کرکے انکوائری داخل دفتر کردیتے ہیں اور سائلین کو آگاہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور افسران کوحثہ بقدر جثہ ادا کرکے سب اچھا ہے کاراگ آلاپ دیا جاتا ہے۔
شہریوں کاکہنا ہے کہ سرکل افسران کے منشی سارے معاملات کرتے ہیں جو کئی کئی سالوں سے ایک ھی جگہ پرتعنیات ہیں اس بدعنوانی کے خاتمے کےلیے ڈی جی اینٹی کرپشن کو ضلعی سطع پر کھلی کچہریوں کاانعقاد کرنا چاہیے تاکہ کرپشن کاخاتمہ ہوسکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانہ اینٹی کرپشن میں تعینات عملہ چھاپے سے قبل کرپٹ افسران و ملازمین کوآگاہ کردیتا ہے اور جوسائلین ڈی جی اینٹی کرپشن کودرخواستیں دیتے ہیں مک مکا کے بعد انکے کیسز بند کردیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اب سائلین کا اینٹی کرپشن سے اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس لینے اور اینٹی کرپشن کے اعلی افسران کو ضلعی ہیڈکواٹر پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کامطالبہ کیاہے۔



